خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء) — Page 342
خطابات شوری جلد اوّل ۳۴۲ مجلس مشاورت ۱۹۲۹ء ”میرے نزدیک آمد کے متعلق بہت گفتگو ہو چکی ہے اور اس سے بہت سے فوائد بھی ہوئے ہیں۔ایک تو یہی کہ چندہ خاص جو اس سال نہیں رکھا گیا تھا اس کا ذکر آ گیا اور یہ فروگذاشت معلوم ہوگئی۔دوسرے وظائف کی واپسی کے متعلق نقص پکڑا گیا۔میرے نزدیک اس سال بجٹ میں کمی رہے گی جیسا کہ نظر آ رہا ہے۔نظارت کے ذمّے جو پچھلے قرضے ہیں اُن کو بھی مدنظر نہیں رکھا گیا۔آمدنی میں سالانہ جلسہ کی آمد ۲۰۰۰۰ رکھی گئی ہے مگر مجھے جو رپورٹ پہنچی ہے اُس سے معلوم ہوا ہے کہ یہ آمد زیادہ سے زیادہ ۱۴ ہزار تک ہوئی ہے، ۶ ہزار کی اس میں بھی کمی ہو گئی۔ان حالات میں آمد کا بجٹ ایک خیالی اندازہ ہے۔میں سب کمیٹی بیت المال کے ممبروں کو خصوصاً اور باقی دوستوں کو بھی توجہ دلاتا ہوں کہ آمد کو پورا کرنے کی کوشش کریں۔ہمارے کارکن دوست مالی امور کے واقف نہیں ہیں۔میں یہ نہیں کہتا کہ میں واقف ہوں تاہم مجھے چونکہ فکر رہتی ہے اس لئے میں گورنمنٹ کی رپورٹیں دیکھتا ہوں۔ریز روفنڈ کی ضرورت ہمارے ہاں جو طریق اختیار کیا گیا ہے وہ نہایت خطرناک ہے۔دنیا کی گورنمنظوں میں سے کوئی گورنمنٹ ایسی نہ ہوگی جو ایک خاص رقم محفوظ نہ رکھتی ہو جو مصیبت کے وقت کام آ سکے۔جب حکومتوں کا یہ حال ہے تو وہ جماعت جس نے تحریص اور تحریک سے ہی کام لینا ہو، اُس کے لئے تو اور بھی ضروری ہے کہ ایک فنڈ محفوظ رکھے۔بعض لوگ کہتے ہیں رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے وقت کوئی ایسی مد نہ تھی مگر یہ بات اس طرح حل ہو جاتی ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے وقت بیت المال نہ تھا، جب قائم ہوا تو اس کا بھی انتظام کیا گیا۔پس اسی طرح اب بھی ضروری ہے کہ ریز روفنڈ رہے جس سے ضرورت کے وقت کام لیا جا سکے۔گزشتہ سال قحط کا سال تھا۔اس سال زمیندارہ چندہ میں 4 اہزار کی کمی رہی۔زمیندار اصحاب تو مجبور تھے مگر شہری چندہ میں بھی کمی رہی کیونکہ قحط کی وجہ سے ان کے اخراجات بڑھ گئے۔جو لوگ مخلص تھے انہوں نے گھروں میں فاقہ برداشت کیا مگر چندہ میں کمی نہ کی لیکن جو کمزور تھے ان کے چندہ میں کمی آگئی۔ان حالات میں اگر ریز روفنڈ ہوتا تو اس میں سے روپیہ لے لیتے اور پھر کمی پوری کر دیتے۔پس ہمیں بجٹ بناتے وقت یہ بات ضرور مدنظر رکھنی چاہئے کہ ریز روفنڈ قائم کیا جائے۔گزشتہ سال چوہدری ظفر اللہ خان صاحب کے توجہ دلانے پر کہ