خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 12 of 671

خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء) — Page 12

خطابات شوریٰ جلد اوّل ۱۲ مجلس مشاورت ۱۹۲۲ء گئے اُس وقت مسلمانوں کی طاقت عیسائیوں سے بہت زیادہ تھی مگر اس وقت اس لئے تنزل میں گر گئے کہ ان کے لشکر کم تھے۔تو اپنی طاقت کو ہر وقت بڑھانا چاہئے ورنہ نقصان ہوتا ہے مثلاً دشمن کھڑا ہو اور ہم چل رہے ہوں تو اس سے آگے ہوں گے اور اگر دشمن دوڑ کر آئے اور ہم ذرا تیز قدم کر لیں تو وہ آگے نکل جائے گا۔اُس وقت ہمیں دشمن سے بھی زیادہ تیز دوڑنے کی ضرورت ہو گی۔تو ہمیں جہاں یہ دیکھنا چاہئے کہ ہماری تجاویز دشمن کی تجاویز سے اعلیٰ ہوں وہاں یہ بھی دیکھنا چاہئے کہ ہماری پہلی تجاویز سے بھی اعلیٰ ہوں جب یہ دونوں باتیں مدنظر رہیں تو سوائے اس کے کہ خدا کا غضب بھڑ کا دیا جائے دنیاوی لحاظ سے کوئی قوم تباہ نہیں ہو سکتی۔ان دونوں باتوں کا مد نظر رکھنا ضروری ہے۔(۱۲) رائے دیتے وقت یہ بات دیکھ لینی چاہئے کہ جو بات پیش ہے وہ واقعہ میں مفید ہے یا ممصر ، مقابلہ میں آکر کسی معمولی سی بات پر بحث شروع ہو جاتی ہے حالانکہ اس کا اصل بات کے مضر یا مفید ہونے سے تعلق نہیں ہوتا۔پس فروعی باتوں پر بحث نہ شروع کرنی چاہئے بلکہ واقعہ کو دیکھنا چاہئے کہ مفید ہے یا مینر۔(۱۳) سوائے کسی خاص بات کے یونہی دُہرانے کے لئے کوئی کھڑا نہ ہو۔ضروری نہیں کہ ہر شخص بولے ہاں اگر نئی تجویز ہو تو پیش کرے۔(۱۴) چاہئے کہ ہر ایک اپنا وقت بھی بچائے اور دوسروں کا بھی وقت ضائع نہ کرے۔اس مشورے کا اثر کیا ہوگا ؟ یہ نہیں کہ ووٹ لئے جائیں اور ان پر فیصلہ کیا جائے بلکہ جیسا اسلامی طریق ہے کہ مختلف خیالات معلوم کئے جائیں اور مختلف تجاویز کے پہلو معلوم ہوں تا کہ ان سے جو مفید باتیں معلوم ہوں وہ اختیار کر لیں۔اس زمانہ کے لحاظ سے یہ خیال پیدا ہو گا کہ کیوں رائے نہ لیں اور ان پر فیصلہ ہومگر ہمارے لئے دین نے یہی رکھا ہے کہ ایسا ہو اذا عزمت فتوكَّلْ عَلَى اللهِ " مشوره لومگر جب ارادہ کر لو تو پھر اس بات کو کر لو یہ نہ کہو کہ لوگ کیا کہیں گے اور اسلام میں ایسا ہی ہوتا رہا ہے۔جب ایران پر حملہ کیا گیا تھا تو دشمن نے ایک پل کو توڑ دیا اور بہت سے مسلمان مارے گئے تھے۔سعد ابن ابی وقاص نے لکھا کہ مسلمان تباہ ہو جائیں گے اگر جلد فوج نہ آئے گی تو عرب میں دشمن گھس آئیں گے۔حضرت عمرؓ نے رائے طلب کی تو سب نے کہا خلیفہ کو خود جانا