خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء) — Page 11
خطابات شوریٰ جلد اوّل مجلس مشاورت ۱۹۲۲ء حضرت صاحب کی یادگار میں یہ مدرسہ قائم کیا گیا ہے۔اب لوگ کیا کہیں گے کہ آپ کی وفات پر پہلا جلسہ جو ہوا اس میں اس یاد گار کو اُڑا دیا گیا!! میری تقریر کے بعد سب نے کہہ دیا نہیں مدرسہ بند نہیں ہونا چاہئے۔حتی کہ خواجہ صاحب نے جو بند کرنے کی تحریک کرنے والے تھے اُنہوں نے بھی کہا کہ میرا یہ مطلب نہیں تھا۔تو احساسات کو تائیدی طور پر پیش کرنا اور ان سے فائدہ اُٹھانا جائز ہے مگر محض ان کے پیچھے پڑنا یا ان کو اُبھار کر رائے بدلنا خیانت ہے۔اگر کوئی یہ جانتا ہو کہ اُس کے دلائل کمزور ہیں اور پھر وہ جذبات کو اُبھارے تو وہ بددیانت ہے۔اور اگر کوئی یہ جانتا ہوا کہ دلائل غلط ہیں مگر احساسات کے پیچھے لگ کر رائے دیدے تو وہ بھی بد دیانت ہے۔(۱۰) دوستم کی باتیں ہوتی ہیں۔ایک وہ جن میں دینی فائدہ زیادہ ہوتا ہے اور دنیوی کم۔دوسری وہ جن میں دُنیوی فائدہ زیادہ ہوتا ہے اور دینی کم۔چونکہ ہم دینی جماعت ہیں اس لئے ہمیں اس بات کے حق میں رائے دینی چاہئے جس میں دینی فائدہ زیادہ ہو۔(۱۱) ہمیشہ یہ بات مدنظر رکھنی چاہئے کہ ہماری تجاویز نہ صرف غلط نہ ہوں بلکہ یہ بھی مد نظر رہے کہ جن کے مقابلہ میں ہم کھڑے ہیں ان کی تجاویز سے بڑھ کر اور مؤثر ہوں اور ہمارا کام ایسا ہونا چاہئے کہ دشمن کے کام سے مضبوط ہو۔مثلاً اگر ایسی جگہ ایک مکان بناتے ہیں جہاں پانی کی رو نہیں آتی۔وہ اگر زیادہ مضبوط نہیں تو خیر لیکن جہاں زور کی رو آتی ہو وہاں اگر مضبوط نہیں بنائیں گے تو غلطی ہو گی۔پس ہماری مجلس شوریٰ میں یہی نہیں ہونا چاہئے کہ اس میں غلطی نہ ہو بلکہ یہ بھی ہو کہ ایسی اعلیٰ اور زبر دست تجاویز ہوں جو دشمن کا مقابلہ کر سکیں۔پھر ایک تو یہ بات ہے کہ دشمنوں کے مقابلہ سے ہماری کوششیں اور تجاویز اعلیٰ ہوں۔دوسری یہ کہ ہماری تجاویز ہماری پچھلی تجاویز سے اعلیٰ ہوں۔ان دونوں باتوں کو بُھولنے سے قو میں تنزل میں پڑ جاتی ہیں۔ان میں سے اگر ایک کو چھوڑ میں تو بھی تنزل شروع ہو جاتا ہے۔مثلاً ایک وقت آ سکتا ہے جبکہ دشمن نہایت کمزور اور ذلیل ہو جائے جیسا کہ مسلمانوں کے لئے آیا تھا۔اسی طرح جب ہمارے لئے وقت آیا تو اُس وقت اگر ہماری کوششیں اپنی پچھلی کوششوں سے کم رہیں تو ضرور نقصان ہو گا۔ایک وقت مسلمان کمزور تھے مگر ایک وقت وہ آیا کہ ان کے دشمن ذلیل ہو گئے اور مسلمان طاقتور ہو