خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 13 of 671

خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء) — Page 13

خطابات شوری جلد اوّل ۱۳ مجلس مشاورت ۱۹۲۲ء چاہئے۔حضرت علیؓ خاموش رہے۔حضرت عمرؓ کو اُن کی خاموشی پر خیال آیا اور پوچھا آپ کیوں چپ ہیں کیا آپ اس رائے کے خلاف ہیں؟ انہوں نے کہا ہاں میں خلاف ہوں۔پوچھا کیوں؟ تو کہا اس لئے کہ خلیفہ کو جنگ میں شامل نہیں ہونا چاہئے۔اس کا کام یہ ہے کہ لڑنے والوں کو مدد دے۔جو قوم ساری طاقت خرچ کر دے اور جسے مدد دینے کے لئے کوئی نہ رہے وہ تباہ ہو جاتی ہے۔اگر آپ کے جانے پر بھی شکست ہوگئی تو پھر مسلمان کہیں نہ ٹھہر سکیں گے اور عرب پر دشمنوں کا قبضہ ہو جاوے گا۔اس پر حضرت عمر نہ گئے اور انہی کی بات مانی گئی ہے تو مشورہ کی غرض ووٹ لینے نہیں بلکہ مفید تجاویز معلوم کرنا ہے پھر چاہے تھوڑے لوگوں کی اور چاہے ایک ہی کی بات مانی جائے۔پس صحابہ کا یہ طریق تھا اور یہی قرآن سے معلوم ہوتا ہے اور عارف کے لئے یہ کافی ہے مگر چونکہ ایک رو چلی ہوئی ہے اس لئے بتاتا ہوں کہ اس طریق کے فوائد کیا ہیں اور وہ فوائد انجمن کے طریق سے زیادہ ہیں۔جو نقائص اس میں بتائے جاتے ہیں وہ انجمن میں بھی ہوتے ہیں۔یہ جو کثرتِ رائے کہتے ہیں لیکن کثرت رائے نہیں ہوتی۔وہاں بھی ایک ہی لیڈر ہوتا ہے جو دوسروں کی رائے کو اپنے پیچھے چلاتا ہے۔وہاں کثرتِ رائے نہیں ہوتی بلکہ موازنہ ہوتا ہے کہ کس نے اپنے ساتھ زیادہ ووٹ ملالئے۔پارلیمنٹ میں یہی ہوتا ہے کہ کہا جاتا ہے کہ رائے نہ ملی تو گورنمنٹ ٹوٹ جائے گی اس لئے سارے رائے دے دیتے ہیں تو عام طبائع ایسی نہیں ہوتیں کہ صحیح رائے قائم کر سکیں اس لئے اکثر لوگ دوسروں کے پیچھے چلتے ہیں۔اگر کہیں کہ وہ اہل الرائے ہوتے ہیں تو بھی یہی ہوتا ہے کہ بڑے کی رائے کے نیچے ان کی رائے دب جاتی ہے اس لئے یہی ہوتا ہے کہ ایک دوسرے کو اپنے ساتھ ملا لیتا ہے۔دونوں کا مقابلہ ہوتا ہے اور اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ لڑائیاں شروع ہو جاتی ہیں ہر وقت مقابلہ رہتا ہے مگر شوری میں یہ بات نہیں ہوتی کیونکہ اس میں پارٹی کا خیال نہیں ہوتا۔یہ جو خیال ہوتا ہے انجمن کا اس میں یہی ہوتا ہے کہ بعض لوگ چاہتے ہیں کہ ہمیں موقع ملے تا کہ آگے نکلیں۔اگر ایک رائے مقرر ہو گئی تو ہمارے لئے کہاں موقع ہوگا۔چونکہ ان میں اوپر نکلنے کے لئے خواہش ہوتی ہے کہ مقابلہ کر کے آگے نکلیں اس کے لئے وہ جھگڑتے رہتے ہیں۔لوگوں کو ساتھ ملا کر پارٹیاں بناتے ہیں چنانچہ اس کا نمونہ ہمیں بھی نظر آ گیا۔