خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء) — Page 328
خطابات شوری جلد اوّل ۳۲۸ مجلس مشاورت ۱۹۲۹ء کے ساتھ دینی تعلیم بھی دی جائے۔صرف انٹرنس تک کی تعلیم لڑکیاں بھی باہر پاسکتی ہیں اور لڑکے بھی لیکن ضرورت مذہبی تعلیم کی ہے جس کے بغیر نہ ہم دین میں کامیاب ہو سکتے ہیں نہ دنیا میں۔میں اپنی طرف سے تو پوری کوشش کروں گا کہ نصاب اس قسم کا رکھا جائے جس میں دینی تعلیم کا بہت بڑا حصہ ہو۔گو میں نہیں جانتا کہ نصاب مقرر کرنے کے وقت کیسی موافق یا مخالف رائیں پیش ہوں گی۔ہائی سکول کا دینی نصاب میرا خیال تو یہ ہے کہ لڑکوں کے ہائی سکول میں بھی دینی نصاب زیادہ ہونا چاہئے۔لوگ اپنے بچوں کو گھروں سے باہر اسی لئے یہاں بھیجتے ہیں کہ وہ دینی تعلیم حاصل کریں۔جب ہم سکول میں پڑھا کرتے تھے اُس وقت دینی نصاب زیادہ تھا مگر اب بہت کم ہے۔میری یہ عادت نہیں کہ جبری طور پر کوئی بات منواؤں اس لئے باوجود اس کے کہ ہائی سکول میں دینی نصاب کم ہے میں نے منتظمین کو اس طرف توجہ دلانے سے زیادہ کچھ نہیں کہا۔میرا خیال ہے ابھی تک اس کی طرف پوری توجہ نہیں کی گئی۔عورتوں کے لئے دینی تعلیم میں جہاں تک سمجھتا ہوں مردوں کی نسبت عورتوں کے لئے دینی تعلیم زیادہ ضروری ہے۔مرد ایک دوسرے سے ملنے جلنے کی وجہ سے ایسی باتیں اخذ کر لیتے ہیں جو کتابوں کے ذریعہ کئی سالوں میں بھی حاصل نہیں کر سکتے لیکن لڑکیوں کے لئے اُس طرح ملنا جلنا آسان نہ ہوگا۔جہاں تک ممکن ہوگا منتظمین اس میں روکیں ڈالیں گے اور جس طرح لڑ کے عام تقریریں اور درس سن سکتے ہیں لڑکیاں نہ سُن سکیں گی اس لئے ان کے لئے زیادہ دینی نصاب کی ضرورت ہے۔یہی وجہ ہے کہ زنانہ سکول قائم کرنے کی ضرورت پیش آ رہی ہے۔گو اس وقت جس قد ر روپیہ ہے اس سے زمین بھی نہ خریدی جا سکے گی مگر میں وعدہ کرتا ہوں کہ اس کے لئے تحریک جاری رکھی جائے گی۔گرلز سکول کے لئے زمین میرا اندازہ ہے کہ کم از کم دس گھماؤں زمین ہونی چاہئے تا کہ لڑکیوں کی صحت کے لئے ایسے پردہ دار میدان ہوں جہاں وہ ورزش کر سکیں۔قادیان کی موجودہ آبادی کو مدنظر رکھتے ہوئے اندازہ لگایا گیا ہے کہ