خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 329 of 671

خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء) — Page 329

خطابات شوری جلد اوّل ۳۲۹ مجلس مشاورت ۱۹۲۹ء دس گھماؤں زمین بیس ہزار میں آسکتی ہے۔اس کے احاطہ پر چھ سات ہزار روپیہ خرچ ہوگا۔اور عمارتیں بنانے پر ساٹھ ستر ہزار روپیہ صرف ہو جائے گا۔یہ کوئی بڑی رقم نہیں۔لڑکوں کے ہائی سکول پر ۸۰ ہزار روپیہ خرچ کیا گیا ہے۔اگر لڑکوں کے لئے ہم اتنا روپیہ خرچ کر سکتے ہیں تو لڑکیوں کے لئے ساٹھ ستر ہزار روپیہ خرچ کرنا کوئی بڑی بات نہیں ہے اور اگر نصف گورنمنٹ نے دے دیا تو ۳۵ ہزار کے قریب گورنمنٹ سے مل جائے گا باقی ۳۵،۳۰ ہزار چند دوستوں پر ڈال دینا کوئی بڑی بات نہیں۔خصوصاً اس صورت میں کہ ان کو اختیار دیا جائے کہ چاہے اس چندہ میں شامل ہوں یا نہ شامل ہوں۔اللہ تعالیٰ اس کام کے لئے توفیق دینے والا ہے۔ایک سال کسی دوست کو توفیق مل جائے گی دوسرے سال کسی اور کو۔اسی سال جب تحریک کی گئی تو بعض دوستوں نے لکھا کہ ہمارا نام کیوں اس تحریک میں نہیں رکھا گیا۔انہوں نے افسوس کا اظہار کیا اور روپیہ بھیج دیا۔ایسے دوستوں سے یہ روپیہ جمع کرنے کی وجہ سے دوسری تحریکوں پر بھی مضر اثر نہ پڑے گا اور چند سال میں ہم زنانہ سکول تیار کر لیں گے اور انشاء اللہ دو تین سال کے اندر اندر اتنی عمارت بنالیں گے کہ سکول کھول سکیں۔زمین کے متعلق ابھی مشورہ کرنا ہے کہ کس مقام پر خریدی جائے۔اس کے لئے یہ مد نظر رکھنا ضروری ہے کہ سکول نہ تو ایسی جگہ ہو جو آبادی سے بالکل باہر ہو، جہاں پورے طور پر نگرانی نہ ہو سکے اور نہ قصبہ سے اتنا قریب ہو کہ زمین خرید نا مشکل ہو جائے۔آبادی کے اندر زمین سو سو روپیہ مرلہ پر فروخت ہو رہی ہے۔ان باتوں پر غور کرنے کے بعد زمین خریدنے کی کوشش کی جائے گی۔یہ بھی ارادہ ہے کہ انجمن کی بھی کچھ زمین ہے وہ خرید لی جائے۔دوسری زمین والوں کو پہلے روپیہ دے دیا جائے اور انجمن کو بعد میں ادا کر دیا جائے اِس طرح آسانی ہو جائے گی۔میں امید کرتا ہوں کہ اگلے سال ہم خدا کے فضل سے کہہ سکیں گے کہ زنانہ سکول کے لئے زمین خرید لی گئی ہے۔“ جلسہ ہائے سیرۃ النبی اللہ مختلف نظارتوں سے متعلق سوال و جوار کا سلسلہ مکمل ہونے کے بعد حضور نے سیرۃ النبی صلی اللہ علیہ وسلم کے جلسوں کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا : -