خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء) — Page 10
خطابات شوریٰ جلد اوّل مجلس مشاورت ۱۹۲۲ء قائم نہیں کرتے مگر فورا بات سُن کر رائے ظاہر کرنے لگ جاتے ہیں۔چاہئے کہ لوگوں کی باتیں سنیں ، ان کا موازنہ کریں اور پھر رائے پیش کریں۔اور نہ ایسا ہو کہ دوسروں کی رائے پر اتکال کریں۔ایک تو میں نے یہ کہا ہے کہ دوسرے کے لئے رائے نہ دی جائے اور ایک یہ کہ دوسرے کے کہنے پر رائے قائم نہ کی جائے۔مثلاً ایک کہے فلاں کام میں خرابی ہے۔دوسرا بغیر خرابی معلوم کئے یہ کہے کہ ہاں خرابی ہے۔اسے خود اپنی جگہ تحقیقات کرنی چاہئے۔(۸) کبھی اس بات کا دل میں یقین نہ رکھو کہ ہماری رائے مضبوط اور بے خطا ہے۔بعض آدمی اس میں ٹھو کر کھاتے ہیں۔کہتے ہیں کہ ہماری رائے غلط نہیں ہو سکتی اور پھر حق سے دور ہو جاتے ہیں۔بعض دفعہ دیکھا گیا ہے کہ بچے بھی عجیب بات بیان کر دیتے ہیں۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم بیویوں سے بھی مشورہ پوچھتے تھے۔حدیبیہ کے وقت ہی جب لوگ غصے میں تھے تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت اُم سلمہ سے پوچھا کہ کیا کیا جائے؟ انہوں نے کہا آپ جا کر قربانی کریں اور کسی سے بات نہ کریں۔آپ نے ایسا ہی کیا اور پھر سب لوگوں نے قربانیاں کر دیں ہے تو اپنی کسی رائے پر اصرار نہیں ہونا چاہئے کیونکہ بڑوں بڑوں سے رائے میں غلطی ہو جاتی ہے اور بعض اوقات معمولی آدمی کی رائے درست اور مفید ہوتی ہے۔مجلس میں علم کی وسعت کے خیال سے بیٹھنا چاہئے۔ہاں یہ بھی عیب ہے کہ انسان دوسرے کی ہر بات کو مانتا جائے۔کچی اور علمی بات کو تسلیم کرو اور جہالت کی بات کو نہ مانو۔(۹) ہمیشہ واقعات کو مدنظر رکھنا چاہئے۔احساسات کی پیروی نہ کرنی چاہئے۔کئی لوگ احساسات کو اُبھار دیتے ہیں اور پھر لوگ واقعات کو مدنظر نہیں رکھتے۔میں نے بھی ایک دفعہ احساسات سے فائدہ اٹھایا ہے مگر ساتھ دلائل بھی پیش کئے تھے۔ایک مجلس اس بات کے لئے ہوئی تھی کہ مدرسہ احمدیہ کو اڑا دیا جائے۔مجلس میں جب قریباً سب اس بات کی تائید کرنے لگے تو میں نے تقریر کی اور اس میں اس قسم کے دلائل بھی دیئے کہ اگر ہم میں علماء نہ ہوئے تو ہم فتویٰ کس سے لیں گے۔کیا ادھر غیروں کو ہم کافر کہیں گے اور ادھر ان سے فتویٰ لیں گے۔اس کے ساتھ ہی جذبات سے بھی اپیل کی کہ