خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء) — Page 285
خطابات شوری جلد اول ۲۸۵ مجلس مشاورت ۱۹۲۸ء رپورٹ پیش کرے کہ دفاتر کا عملہ کم ہے اور کام زیادہ ہے یا عملہ زیادہ ہے اور کام کم ہے۔ نظارتوں کے فرائض پورے طور پر ادا ہوتے ہیں یا نہیں؟ اس کمیٹی میں ایسے آدمی ہوں جو حکومت کرنے کا رنگ رکھتے ہوں تا کہ وہ ناظروں کے کام کو چیک کر سکیں ۔ پھر وہ حساب کتاب سے بھی واقف ہوں ، دفتری حالات سے بھی واقفیت رکھتے ہوں اور وہ اس پائے کے ہوں کہ ناظروں کے کام کی پڑتال کر سکیں۔ یہ بھی ایک طبعی امر ہوتا ہے کہ جس پایہ کے کام کرنے والے ہوں اگر اُس پایہ کے معائنہ کرنے والے نہ ہوں تو نتائج خاطر خواہ نہیں نکلتے ۔ پھر جن کے کام کا معائنہ کیا جائے اُنھیں بھی ناگوار گزرتا ہے۔ اس لئے احباب ان سب باتوں کو مد نظر رکھ کر اس کمیٹی کے لئے نام پیش کریں ۔“ اس پر کچھ نام پیش : منتخب کیا ۔ رم ہوئے جن میں سے حسب ذیل تین اصحار تین اصحاب کو حضرت خلیفة المسیح نے (۱) چوہدری نعمت اللہ خان صاحب سب حج دہلی ۔ (۲) پیرا کبر علی صاحب وکیل فیروز پور ۔ (۳) غلام حسین صاحب ڈسٹرکٹ انسپکٹر کرنال ۔ اور فرمایا :- دو یہ دوست معائنہ کرنے کے لئے اپنی فرصت اور سہولت کو مد نظر رکھتے ہوئے خود تاریخ مقرر کر لیں اور اس کی اطلاع نظارتوں کو دے دیں ۔ چوہدری نعمت اللہ خاں صاحب کو اس کمیٹی کا پریزیڈنٹ مقرر کیا جاتا ہے۔ وہ مناسب موقع پر دوسروں کو جمع کر لیں لیکن جب کسی دفتر کا معائنہ کرنا ہوا سے لکھ دیں تا کہ وہ تیاری کرے۔“ دوسرا دن مجلس مشاورت سب کمیٹی نظارت تعلیم و تربیت کی رپورٹ ای میل کے دوسرے میانی - ۷۔ اپریل ۱۹۲۸ء کو سب ۷۔ ۱۹۲۸ء تعلیم و تربیت کی رپورٹ پیش ہوئی۔ لڑکیوں کے بورڈنگ ہاؤس کی تجویز زیر بحث آئی تو حضور نے فرمایا :-