خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء) — Page 284
خطابات شوری جلد اوّل ۲۸۴ مجلس مشاورت ۱۹۲۸ء ہوتا رہتا ہے۔اور اس رقم میں ۲۳ دسمبر سے ۲ جنوری کی شام تک کے مہمانوں کا خرچ شامل ہوتا ہے۔چار دنوں کے کھانا کھانے والوں کی اوسط دس ہزار ایک وقت کی ہوتی ہے اور چار دن کی ۸۰ ہزار بنتی ہے۔باقی سات دن کی اوسط اگر ۲ ہزار بھی ایک وقت کی سمجھی جائے تو یہ ۲۸ ہزار ہوئی۔اگر فی آدمی ۲ یا ۳ / خرچ رکھا جائے تو ۱۳ ۱۴ ہزار خرچ جا بنتا ہے۔یہ ادنیٰ سے ادنی خرچ ہے، گھر میں لوگ اس سے زیادہ خرچ کرتے ہیں۔پھر صرف روٹیاں پکوانے کا بل دو ہزار کا ہوتا ہے۔یہ لوگ اپنی دُکانیں بند کر کے آتے اور یہاں آکر روٹیاں پکاتے ہیں۔یہ ۸۰ آدمی روزانہ کام کرنے والے ہوتے ہیں۔اس قسم کے اخراجات کو عام طور پر دوست مد نظر نہیں رکھتے۔وہ اپنے گھروں پر قیاس کرتے ہیں کہ بیوی نے روٹی پکا دی یا نوکر نے ، گویا پکوائی پر اُن کے نزدیک کچھ خرچ نہیں ہوتا۔اس طرح یہ اخراجات زیادہ نہیں ہیں بلکہ بہت احتیاط سے کئے جاتے ہیں۔جو دوست یہ کہتے ہیں کہ ہم اپنے کھانے کا خود انتظام کر لیا کریں گے اور جلسہ کا چندہ نہ دیں گے اُن کے نزدیک قادیان والوں کو تو کچھ نہ دینا چاہئے کیونکہ وہ ان ایام میں اپنے گھروں سے کھانا کھاتے ہیں حالانکہ تعداد کے لحاظ سے بیشتر حصہ ایسا ہے جو چندہ دیتا ہے کیونکہ وہ سمجھتے ہیں کہ کھانے کے علاوہ دوسرے اخراجات پر بھی صرف ہوتا ہے۔پس یہ اعتراض حالات کی ناواقفیت کی وجہ سے کیا گیا ہے۔“ رض حضرت خلیفتہ اسی کی ایک تجویز رپورٹوں پر تبصرہ کے بعد حضور نے اپنی ایک تجویز کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا : - اس دفعہ کے ایجنڈا میں میری طرف سے یہ تجویز درج ہے: دفتری کام کے لئے تین تجربہ کار احباب کی جو مرکزی دفاتر سلسلہ کے کارکن نہ ہوں ایک ایسی کمیٹی بنائی جائے جو ماہ جنوری ۱۹۲۹ء کے آخر میں ایک ہفتہ میں ان دفاتر کا معائنہ کر کے رپورٹ کرے“۔اس تجویز کی ضرورت یہ ہے کہ نظارتیں اپنے ماتحت دفاتر کی نگرانی کرتی ہیں لیکن نظارتوں کے کام کی نگرانی کرنے والا کوئی نہیں اس لئے یہ تجویز پیش کی گئی ہے کہ مجلس شوری کی طرف سے ایک ایسی کمیٹی مقرر کی جائے جو سارے دفاتر کا معائنہ کر کے اس قسم کی