خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 283 of 671

خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء) — Page 283

خطابات شوری جلد اوّل ۲۸۳ مجلس مشاورت ۱۹۲۸ء حضرت خلیفہ اول خط پڑھتے جاتے اور مسکراتے جاتے۔وہ لڑکا بھی آپ کے پاس ہی بیٹھا تھا، اُس سے پوچھتے بھئی! آج تم پر کتنوں نے تھوکا ہے؟ تو ایسی باتیں طالب علم کرتے رہتے ہیں مگر والدین کا فرض ہے کہ ان کی ہر بات پر یقین نہ کر لیا کریں۔دراصل لوگوں میں غلط فہمیاں پیدا ہو جاتی ہیں۔ابھی پرسوں کا واقعہ ہے ایک آدمی کو بھیجا گیا کہ فلاں دکان سے یہ چیز لے آؤ۔مطلب یہ تھا کہ پیسے لے جاؤ اور جا کر لے آؤ مگر وہ یونہی چلا گیا۔میں نے اس دکاندار سے کہا ہو ا تھا کہ میرے لئے یا تو پیسے لے کر چیز دیا کرو یا رقعہ لے کر۔اُس نے یونہی جانے پر چیز تو دے دی مگر ساتھ یہ بھی کہ دیا کہ مجھے اس طرح دینے کا حکم نہیں ہے۔جو شخص لینے کے لئے گیا تھا اُس نے آ کر بتایا دکاندار نے میری چادر چھین لی تھی کہ پیسے لا کر دو۔تو بات کی تحقیقات کر کے دیکھنا چاہئے کہ کس حد تک وہ صحیح ہے اور کس حد تک اُس میں مبالغہ داخل ہے۔درس جاری کرنے والوں کی جو تعداد بیان کی گئی ہے وہ اصل میں اس سے زیادہ ہے۔غالباً تعلیم و تربیت میں ساری اطلاعیں نہیں پہنچیں۔خدا کے فضل سے درس بہت جگہ جاری ہو گیا ہے۔رپورٹوں کے متعلق میں ناظروں سے یہ کہنا چاہتا ہوں کہ انہیں چاہئے کہ سرکاری رپورٹیں پڑھتے رہا کریں تا کہ انھیں معلوم ہو کہ رپورٹیں کس طرح لکھنی چاہئیں۔نظارت ضیافت کی رپورٹ کے متعلق دریافت کیا گیا نظارت ضیافت کی رپورٹ ہے کہ جلسہ پر اٹھارہ ہزار روپیہ کس طرح خرچ ہو گیا جبکہ ایک وقت دال دی جاتی ہے۔یاد رکھنا چاہئے کہ خرچ صرف کھانے کا نہیں ہے بلکہ اس میں اور بھی بہت سے اخراجات شامل ہیں۔تاہم میری اپنی رائے ہے کہ اس خرچ میں کفایت کی گنجائش ہے۔اس لئے میں نے ایک کمیٹی بٹھائی تھی مگر اس سے کوئی زیادہ کامیابی نہیں ہوئی۔میرا خیال ہے کچھ نہ کچھ کمی ہو سکتی ہے۔اس رقم میں کئی اور بھی خرچ ہیں مثلاً کسیر کا خرچ ، جلسہ گاہ بنانے کا خرچ ، مٹی کے برتنوں کا خرچ، لیمپوں کا خرچ۔غرض تین ہزار یا اس سے بھی زیادہ خرچ دوسری چیزوں پر ہوتا ہے۔پھر جلسہ کے تین دن ہی خرچ نہیں پڑتا بلکہ گیارہ۔بارہ دن تک خرچ