خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء) — Page 282
خطابات شوری جلد اوّل ۲۸۲ مجلس مشاورت ۱۹۲۸ء طرف جاؤ۔مدرسہ ہائی کے متعلق بھی شکایات بیان کی جاتی ہیں مگر میں ان میں سے کئی ایک کو بے جا سمجھتا ہوں اور وہ بلا وجہ ہیں۔جلسہ سالانہ پر ہی میں نے بیان کیا تھا کہ ایک لڑکا جو یہاں سے بھاگ کر گیا کس طرح اُس نے غلط باتیں گھڑ لیں اور پھر اُس کے والد نے ان یقین کر کے بڑے غصہ اور رنج کا اظہار کیا لیکن جب تحقیقات کی گئی تو سب باتیں غلط۔مشکل یہ ہے کہ بچوں نے جہاں اپنی کسی تکلیف کا والدین سے اظہار کیا وہ اسے شکایت بنا لیتے ہیں حالانکہ صاف ظاہر ہے کہ بچہ کو گھر جیسا آرام تو دوسری جگہ نہیں مل سکتا۔کچھ نہ کچھ اسے تکلیف ہو گی۔ابھی میں مالیر کوٹلہ گیا تو وہاں میری بہن کا ایک بچہ رہتا تھا میں نے کہا ابھی اسے واپس بھیجو تا کہ تعلیم کا حرج نہ ہو۔انھوں نے کہا تکلیف ہو گی مگر میں نے کہا یہ تکلیف برداشت کرنی چاہئے۔تو تکلیف تو ہوتی ہے مگر اسے برداشت کرنا چاہئے اور اس کے متعلق ٹھنڈے دل سے غور کرنا چاہئے اور مناسب طریق سے اس کے دُور کرنے کی کوشش کرنی چاہئے۔میں نے اس قسم کی بہت سی شکائتوں کی تحقیقا تیں کیں۔بعض اوقات افسروں کی بھی غلطی پائی گئی مگر ساٹھ ستر فیصدی شکائتیں جھوٹی ثابت ہوئیں۔ایک دفعہ ایک لڑکے کے والد نے لکھا میرا لڑکا عربی میں بہت ہوشیار تھا مگر ہیڈ ماسٹر نے فلاں بات کی وجہ سے اسے فیل کر دیا۔میں نے اس لڑکے کا عربی کا پرچہ منگا کر دیکھا۔اسے سو میں سے اڑھائی نمبر دیئے گئے تھے جب میں نے پرچہ دیکھا تو مجھے افسوس ہوا کہ اسے اڑھائی نمبر بھی کیوں دیئے گئے ہیں، وہ اس قابل بھی نہ تھا۔میں نے اُس کے والد کو لکھا آپ کے لڑکے کو تو صفر ملنا چاہئے تھا۔پر چہ موجود ہے، اس میں جو کچھ اس نے لکھا ہے وہ ظاہر ہے۔تو ایسی شکائتیں بھی ہوتی ہیں۔یہ ماں باپ کی غلطی ہوتی ہے کہ لڑکے کی طرف سے جو رپورٹ ملے، اسے درست تسلیم کر لیں۔ایک دفعہ حضرت خلیفہ اول کے پاس ایک خط آیا جس میں لکھا تھا ہمیں اپنا بچہ بہت پیارا ہے مگر معلوم ہوا ہے اس سے وہاں یہ سلوک کیا جا رہا ہے کہ اسے پنجرے میں بند کر رکھا ہے اور لڑکوں کو حکم دیا گیا ہے کہ جو اس کے پاس سے گزریں وہ اس پر ٹھو کیں۔