خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء) — Page 274
خطابات شوری جلد اوّل ۲۷۴ مجلس مشاورت ۱۹۲۸ء جاسکتی ہے مگر یوں ہی باتیں کرنا یا آپس میں باتیں کرنا یہ درست نہیں، اس سے بچنا چاہئے۔مومن کی رائے پھر یہ بھی مد نظر رکھنا چاہئے کہ کسی کی خاطر کوئی رائے نہ دی جائے۔مومن کا قول بازار کا سو دانہیں جو لحاظ سے یا روپیہ سے خریدا جا سکے۔یا مومن بازاری عورت نہیں جسے ہر ایک خرید سکے بلکہ وہ خدا کے لئے رائے قائم کرتا اور اُس کے لئے رائے دیتا ہے، وہ کسی عزیز سے عزیز کے لئے رائے نہیں دیتا۔وہ نہ کسی کی محبت کی وجہ سے اپنی رائے دیتا ہے اور نہ کسی بڑے کی بڑائی سے ڈرتا ہے وہ جو بات حق سمجھتا ہے وہی بیان کرتا ہے۔ہاں یہ احساس ضرور ہو کہ کسی دوسرے پر حملہ نہ ہو، کسی کی دل شکنی نہ ہو، کسی بات پر ضد نہ ہو کہ اپنی ہی بات پر زور دیتا رہے۔اوّل تو یہ سمجھنا چاہئے کہ دوسروں کی رائے بھی درست ہو سکتی ہے لیکن اپنی رائے کو درست سمجھے تو اس کے ساتھ ہی یہ بھی سمجھنا چاہئے کہ اگر اُس کی رائے نہ تسلیم کی گئی تو دُنیا تباہ نہ ہو جائے گی اور اگر اس کی رائے کے خلاف کرنے سے دُنیا تباہ بھی ہو سکتی ہو تو پھر خدا تعالیٰ اس کی اصلاح کر دے گا اور اس پگڑی کو بنا دے گا۔مشاورت میں زیادہ سے زیادہ حصہ لیا جائے پھر یہ بات بھی مد نظر رہے کہ زیادہ سے زیادہ مجلس شوریٰ میں میں حصہ لیا جائے۔ہمارا کام اتنا لمبا ہوتا ہے کہ سارے آدمی اتنے عرصہ تک نہیں بیٹھ سکتے۔سوائے میرے کہ مجھے بیٹھنا پڑتا ہے۔بعض کمزور اور بوڑھے بھی ہوتے ہیں، بعض کو کھانے کی ضرورت پیش آتی ہے، بعض کو کوئی اور حاجت لاحق ہو جاتی ہے مگر باوجود اس کے دوستوں کو زیادہ سے زیادہ حصہ لینا چاہئے۔اگر کسی ضرورت کے لئے جانا پڑے تو اس کے لئے بہت کم وقت خرچ کرنا چاہئے اور پھر جلد واپس آجانا چاہئے۔پارلیمنٹ میں تو اس طرح ہوتا ہے کہ جب تک دلچسپی ہو ممبر بیٹھے رہتے ہیں اور جب کوئی ایسا کام ہو جس سے دلچپسی نہ ہو اُٹھ کر چلے جاتے ہیں مگر ہمیں پورا وقت دینا چاہئے کیونکہ ہماری کوئی بڑی سے بڑی ضرورت دین کی چھوٹی سے چھوٹی ضرورت کے مقابلہ میں بھی کوئی حقیقت نہیں رکھتی۔