خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 273 of 671

خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء) — Page 273

خطابات شوری جلد اوّل ۲۷۳ مجلس مشاورت ۱۹۲۸ء دیتے۔آپ نے مجھے خط لکھا۔اُس میں عربی کا ایک مصرعہ لکھا جس کا مطلب یہ تھا کہ خدا سے یہ خوف مت کرو کہ وہ عاملوں کے عمل کا اجر کم دے گا۔پس اگر خدا تعالیٰ پر یقین ہو اور جو کچھ پاس ہوا سے قربان کر دیا جائے تو پھر جس قدر زائد کی ضرورت ہو وہ خود پوری کر دے گا۔ہمیں دون ہمتی سے نہیں بلکہ علو ہمتی سے ان مسائل پر غور کرنا چاہئے جو ہمارے سامنے پیش ہوں۔محبت اور اُلفت کا رنگ پھر محبت اور اُلفت کے رنگ میں غور کرنا چاہئے۔بسا اوقات ایسا ہوتا ہے کہ ایک شخص کوئی بات بیان کرتا ہے اور دوسرا اُسے اپنے خلاف سمجھ لیتا ہے۔مشورہ میں تبھی فائدہ ہوسکتا ہے جب وسعت حوصلہ سے کام لیا جائے اور ہر ایک کی بات کو ٹھنڈے دل سے سُنا جائے۔جب اسے چھوڑ دیا جائے تو تفرقہ پیدا ہو جاتا ہے۔پس کبھی یہ مت سمجھو کہ ہماری بات غالب ہو کر رہے بلکہ ہر وقت یہی سمجھو کہ خدا کی بات غالب رہے۔وقت ضائع نہ ہو پھر دوست اس بات کو بھی مدنظر رکھیں کہ وقت ضائع نہ ہو۔بعض اوقات ایک ہی بات ہوتی ہے جسے دوست دُہراتے جاتے ہیں۔اگر اس بات کی تائید کرنی ہو جو پیش ہو تو یہ ووٹ طلب کرنے کے وقت کی جاسکتی ہے۔ہاں اگر کوئی نئی دلیل پیش کرنی ہو یا کوئی بات رہ گئی ہو وہ بیان کرنی ہو تو بیان کی جاسکتی ہے۔ور نہ پہلی بات کو دُہرانا وقت ضائع کرنا ہے۔پس اس بات کو دوست یا درکھیں کہ جب نئی بات پیش کرنی ہو تب کھڑے ہوں پہلی بات کو دُہرانے کے لئے کھڑے نہ ہوں۔باتیں غور سے سنو پھر ایک دوسرے کی باتوں کو غور اور توجہ سے سُننا چاہئے۔دیکھا گیا ہے کہ بعض دوست دورانِ مشاورت سو بھی جاتے ہیں یا ایک دوسرے سے باتیں کرتے رہتے ہیں۔پارلیمنٹ میں اور اس پارلیمنٹ میں جو صدر پارلیمنٹ کہلاتی ہے دیکھا گیا ہے کہ ممبر تالیاں بجاتے، دانت نکالتے اور منہ چڑاتے ہیں۔مگر وہ دنیا کی پارلیمنٹوں کی ماں ہے۔آپ کی مجلس دینی مجلسوں کی ماں ہے اور ایسی مجلس میں شامل ہونے والوں کے لئے حکم ہے فاستَمِعُوا کے کہ سنو۔پس سوائے ایسی بات کے کہ مثلاً کوئی باہر سے آئے اور پوچھ لے کہ کیا بات ہو رہی ہے یا کسی کو کوئی ہدایت دینے کے لئے بات کی