خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 275 of 671

خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء) — Page 275

خطابات شوری جلد اوّل ۲۷۵ مجلس مشاورت ۱۹۲۸ء مجلس مشاورت کی اہمیت میں دیکھتا ہوں مجلس مشاورت جماعت میں بہت اہمیت اختیار کر رہی ہے اور ایسا ہی ہونا بھی چاہئے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ہے۔لَا خِلَافَةَ إِلَّا بِمَشْوَرَةٍ که خلافت بغیر مشورہ کے نہیں۔اور یہ آپ نے خدا تعالیٰ کے حکم سے فرمایا۔یہ میں اس لئے کہتا ہوں کہ خلافت کا حکم قرآن میں ہے اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کے متعلق کوئی حد بندی اپنی طرف سے نہ کر سکتے تھے۔بات یہی ہے کہ خلافت کبھی مفید نہیں ہو سکتی جب تک اُس کے ساتھ مشورہ نہ ہو۔تو خدا تعالیٰ کے نزدیک تو مجلس شوری کو پہلے ہی اہمیت حاصل تھی مگر جماعت کی اس طرف کم توجہ تھی۔اب جماعت بھی اسکی اہمیت محسوس کر رہی ہے اور اس دفعہ دو تین جماعتوں کی طرف سے یہ سوال اُٹھایا گیا ہے کہ فلاں نمائندہ ہو فلاں نہ ہو۔پہلے یوں کہتے تھے کہ بھئی مجلس مشاورت میں جانے کے لئے کس کو فراغت ہے؟ اگر کوئی کہتا مجھے ہے تو اُسے بھیج دیتے مگر اب کے جماعتوں نے نمائندوں کے انتخاب کئے ہیں اور اچھے طریق پر کئے ہیں۔اس بات پر بحث ہوئی ہے کہ کون نمائندہ بن کر جائے ، یہ ایک اچھی رُوح ہے۔مجلس مشاورت کی عزت ہماری جماعت کو سمجھنا چاہئے کہ ہماری مجلس شوری کی عزت ان بنچوں اور کرسیوں کی وجہ سے نہیں ہے جو یہاں چھی ہیں بلکہ عزت اُس مقام کی وجہ سے ہے جو خدا تعالیٰ کے نزدیک اسے حاصل ہے۔بھلا کوئی کہہ سکتا ہے کہ محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی عزت اُس لباس کی وجہ سے تھی جو آپ پہنتے تھے۔آپ کی عزت اُس مرتبہ کی وجہ سے تھی جو خدا تعالیٰ نے آپ کو دیا تھا۔اسی طرح آج بے شک ہماری یہ مجلس شوری دُنیا میں کوئی عزت نہیں رکھتی مگر وقت آئے گا اور ضرور آئے گا جب دُنیا کی بڑی سے بڑی پارلیمنوں کے ممبروں کو وہ درجہ حاصل نہ ہو گا جو اس کی ممبری کی وجہ سے حاصل ہوگا کیونکہ اس کے ماتحت ساری دُنیا کی پارلیمنٹیں آئیں گی۔پس اس مجلس کی ممبری بہت بڑی عزت ہے اور اتنی بڑی عزت ہے کہ اگر بڑے سے بڑے بادشاہ کو ملتی تو وہ بھی اس پر فخر کرتا اور وہ وقت آئے گا جب بادشاہ اس پر فخر کریں گے۔پس ضرورت ہے کہ جماعت اس کی اہمیت کو اور زیادہ محسوس کرے