خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء) — Page 272
خطابات شوری جلد اوّل ۲۷۲ مجلس مشاورت ۱۹۲۸ء اس درجہ پر پہنچائیں کہ وہ کسی کے یاد دلانے کے محتاج نہ رہیں اور کارکنوں کو یہ نصیحت کروں گا کہ وہ اپنے فرض کو پہچانیں اور جلد سے رپورٹ شائع کیا کریں۔گزشتہ سال کے متعلق دوستوں نے کچھ اقرار کئے تھے۔ان میں سے ریز روفنڈ کا چندہ ایک یہ بھی تھا کہ دین کی ضروریات کے لئے چندہ جمع کریں گے مگر ان وعدوں کے مطابق شاید دسفیصدی نے بھی کوشش نہیں کی اور میں آقا بنعمة ربك محدث کے طور پر کہہ سکتا ہوں کہ سوائے ہمارے خاندان کے کوئی ایسا نہ ہوگا جس نے سارے وعدے پورے کئے ہوں مگر اس میں اس تحریک کو چلانے والوں کی سستی کا بھی دخل ہے۔پھر جلسہ سالانہ پر جو وعدے کئے گو اُن میں بھی سستی اختیار کی گئی مگر اتنی نہیں جتنی مجلس مشاورت کے وعدوں میں۔تاہم اتنی چستی بھی نہیں دکھائی گئی جس کی ضرورت ہے۔اس لئے توجہ دلاتا ہوں کہ دوست مالی پہلو کے وعدوں کو یاد رکھیں۔جنھوں نے وعدے کئے ہوئے ہیں وہ اُنھیں پورا کریں اور جنھوں نے نہیں کئے اُن سے کرائیں کیونکہ ہمارے تمام کام مال چاہتے ہیں اسی لئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے دین کو دنیا پر مقدم کرنے کا عہد لیا۔پس ایک بات تو یہ مد نظر ہو کہ جو وعدے کئے گئے ہیں انھیں پورا کیا جائے۔ارادوں میں بلندی ہو پھر یہ مدنظر ہو کہ ہمارے ارادوں میں بلندی ہو، پستی نہ ہو۔ہمارے ارادوں کو خدا تعالیٰ نے پورا کرنا ہے۔اگر ہم یہ ارادہ کر لیں کہ چاہے ہماری جانیں چلی جائیں ہم پیچھے قدم نہیں ہٹا ئیں گے تو ضرور خدا تعالی ہماری مدد کرے گا۔ہم نے کئی نظارے خدا تعالیٰ کی تائید کے دیکھے ہیں۔ایسی حالت میں جب بظاہر کامیابی کی کوئی صورت نظر نہ آتی تھی خدا تعالیٰ نے کامیابی کے سامان پیدا کر دیئے ہیں۔پس جب ہمارے ذاتی معاملات میں خدا تعالیٰ ایسے نشان دکھاتا ہے تو پھر کیا وجہ ہے کہ اسلام کے لئے نہ دکھائے۔ایک دفعہ حضرت خلیفہ اول کے زمانہ میں تجویز ہوئی کہ چونکہ قحط ہے اس لئے سالانہ جلسہ کے دن تین کی بجائے دو کر دئیے جائیں۔اُس وقت میں لنگر خانہ کا منتظم تھا۔دنوں میں کمی کرنا میرا کام نہ تھا یہ مجلس نے فیصلہ کیا تھا۔مگر حضرت خلیفہ اول کا جس طرح طریق تھا کہ جس کا قصور ہوتا اُسے مخاطب نہ کرتے دوسرے کو مخاطب کر کے وہ بات کہہ