خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 271 of 671

خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء) — Page 271

خطابات شوری جلد اوّل ۲۷۱ مجلس مشاورت ۱۹۲۸ء مجلس مشاورت کے فیصلے مجھے افسوس ہے کہ یہاں کئی فیصلے کئے جاتے ہیں مگر گھر جا کر احباب اُنھیں بھول جاتے ہیں۔آپ لوگوں میں سے کئی ایک نمائندے ایسے ہیں جو اس سال پھر آئے ہیں۔وہ اپنے دل سے پوچھیں کسی اور کے متعلق نہیں اپنے نفس کے متعلق ہی سوال کریں ، کیا وہ کہہ سکتے ہیں کہ اُنھوں نے اُن فیصلوں کے مطابق زندگی بسر کی جو گزشتہ سال مجلس مشاورت میں کئے گئے تھے؟ اور کیا انھوں نے اپنے اپنے مقام اور اپنی اپنی جماعت میں ان فیصلوں کو جاری کرنے کی کوشش کی اور اتنی کوشش کی جتنی کرنے کی ضرورت تھی ؟ اگر نہیں کی تو میں پوچھتا ہوں اس طرح جمع ہونے سے کیا حاصل؟ یہ اجتماع ایسا ہی سمجھا جائے گا جیسے چوہوں نے جمع ہو کر تجویز کی تھی کہ سب مل کر بلی کو پکڑ لیں گے لیکن جب بلی آئی تو سب بھاگ گئے۔اگر ہم یہاں مجلس میں یہ کہہ جائیں کہ ہم یہ کریں گے وہ کریں گے لیکن جب گھر جا ئیں تو سب کچھ بھلا دیں تو بتاؤ یہاں جمع ہونے کا کیا فائدہ؟ اب میں دوستوں سے کہوں گا جو کچھ پیچھے ہو چکا وہ تو ہو چکا، اُسے ہم واپس نہیں لا سکتے مگر خدا تعالیٰ کہتا ہے جب بھی تم تو بہ کرو میں معاف کرنے کے لئے تیار ہوں۔اگر ہم سے پہلے کوتاہی اور سستی ہوئی ہے تو آؤ آج سے سچے دل سے اقرار کریں کہ آئندہ ایسا نہیں ہوگا۔بے شک کارکنوں کی بھی کوتا ہی ہے کہ گزشتہ سال کی مجلس مشاورت کی رپورٹ آب شائع کی ہے حالانکہ چاہئے تھا کہ مشاورت کے بعد پہلے مہینہ میں ہی شائع کر کے بھیج دیتے تا کہ نمائندوں کو وہ اقرار یاد آ جاتے جو انھوں نے مجلس میں کئے تھے۔مومن کی شان مگر مومن کو یاد دلانے کی ضرورت نہیں ہوتی۔دیکھو خدا تعالیٰ یہود کو کہتا ہے۔يبني اشراء يل اذْكُرُوا نِعْمَتِي مگر محمد صلى اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کہتا ہے نذیر تو مومنوں کے لئے یہ حکم ہے کہ دوسروں کو یاد دلائیں نہ یہ کہ اُن کو کوئی یاد دلائے کیونکہ یہ ضرورت کمزور کے لئے ہوتی ہے کہ اسے کوئی یاد دلائے مگر پھر بھی سب لوگ برابر نہیں ہوتے۔پھر بعض کے حافظوں میں بھی نقص ہوتا ہے اس لئے چاہئے تھا کہ جلد رپورٹ شائع کی جاتی۔پس دوستوں کو تو میں یہ کہوں گا کہ وہ اپنے آپ کو