خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء) — Page 258
خطابات شوری جلد اوّل ۲۵۸ مجلس مشاورت ۱۹۲۷ء سے اُنہی لوگوں کی طرف زیادہ جھکے ہوئے تھے جو عیسائی ہو چکے ہیں۔اب کام کرنے کے لئے دوسرے علاقے لینے چاہئیں جہاں کے تمدنی حالات پر ہم قبضہ کرسکیں۔منٹگمری کے علاقہ میں ایک قوم ہے جس کی تعداد کئی لاکھ ہے۔ان کے گرو نے قرآن کا ترجمہ شعروں میں کر کے ایک کتاب بنائی ہے جسے وہ لوگ مقدس سمجھتے ہیں۔ان میں ایک راجہ بھی ہے ، کئی کروڑ پتی ہیں۔ان میں اگر تبلیغ شروع کی جائے اور بتایا جائے کہ تمہارے گرو نے جو مقدس کتاب تمہیں دی ہے، وہ دراصل قرآن سے ہی لی گئی ہے اور قرآن کو ماننا تمہارے لئے ضروری ہے تو امید ہے ان میں جلدی اور بآسانی کامیابی حاصل ہو سکے۔پس اس کام کے لئے پورے طور پر تیار ہو جانا چاہئے لیکن دوستوں کو یاد رکھنا چاہئے کہ اپنے آپ کو مٹا کر کام کرنا چاہیں گے تب کامیابی حاصل ہوگی۔“ جاپان میں تبلیغی مشن کھولنے کی تجویز جاپان میں تبلیغی مشن کھولنے کی تجویز کے بارہ میں حضور نے فرمایا:- میں اس تجویز پر رائے لینے سے پہلے اپنی رائے بیان کرتا ہوں اس وقت ہندوستان میں ایسی رو چلی ہوئی ہے کہ اگر ہم نے اپنی طاقت ہندوستان سے باہر خرچ کی تو خطرہ ہے کہ ہندوستان میں ہمیں نقصان پہنچ جائے۔جہاں نبی پیدا ہوتے ہیں اُسی ملک سے خاص رو چلتی ہے اور اب وہ زمانہ آنے والا ہے کہ ہندوستان اور ملکوں پر غلبہ حاصل کرے گا۔اس لئے ہمارے لئے سب سے ضروری بات یہ ہے کہ ہندوستان میں اپنی طاقت مضبوط کریں۔ہم نے باہر جو مشن قائم کئے ہوئے ہیں اُن کا اثر سیاسی طور پر ہندوستان پر پڑتا ہے۔پھر عیسائی ممالک میں ہمارے جو مشن ہیں ان کی وجہ سے وہاں کے اخبارات میں یہ سوال اٹھتا رہتا ہے کہ پادری تو کہتے ہیں ہندوستان کے لوگ وحشی اور تہذیب سے عاری ہیں اور ہم انہیں تہذیب سکھاتے ہیں مگر وہ لوگ تو ہمیں تہذیب سکھانے آئے ہیں۔اس طرح پادریوں کے چندہ پر بھی اثر پڑ رہا ہے۔یہ تو ان ممالک کے مشنوں کا فائدہ ہے جو عیسائی ممالک میں ہیں اور جو اسلامی