خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء) — Page 259
خطابات شوری جلد اوّل ۲۵۹ مجلس مشاورت ۱۹۲۷ء ممالک میں ہیں ان کا اور رنگ میں فائدہ ہے۔سماٹرا میں جو ہمارا مشن ہے اُس پر ۸۰ روپے ماہوار خرچ ہوتا ہے لیکن وہاں ایک غیر احمدی نے اپنے خرچ پر اس لئے اخبار جاری کیا ہے کہ ہمارے مضامین اُس میں چھپیں اور اس شخص نے کئی ہزار روپیہ مشن کو دینے کا وعدہ کیا ہے۔اسی طرح اخبار سن رائز کا یہ منشاء ہے کہ اس کے ذریعہ ممالک غیر میں تبلیغ کی جائے۔اس کے لئے جاپان سے بھی پتے آچکے ہیں۔اس کے لئے ضرورت ہے کہ جماعت اس اخبار کے خریدار بڑھائے۔اِس وقت تک اس کے متعلق جماعت بہت عمدہ کام کر رہی ہے۔۹۰۰ خریدار آچکے ہیں جو اخبار کے لحاظ سے غیر معمولی ہیں مگر کام کے لحاظ سے کم ہیں۔اگر اس اخبار کو کامیابی کے ساتھ چلایا جائے تو اس طرح تبلیغ کی جاسکتی ہے اور اس میں جاپان کا حصہ بھی ہوگا اس لئے جاپان میں مشن قائم کرنے کی تجویز کو چھوڑ کر اس سکیم پر عمل کیا جائے۔“ اختتامی تقریر سب کمیٹی نظارت بیت المال اور سب کمیٹی نظارت ضیافت کی رپورٹیں پیش ہونے اور اس سلسلہ میں مجلس کی کارروائی مکمل ہونے کے بعد اپنی اختتامی تقریر میں حضور نے نمائندگان کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا : - اب میں دُعا کے بعد مجلس مشاورت کو ختم کرنا چاہتا ہوں اور احباب سے درخواست کرتا ہوں کہ جو اثر اِن پر مجلس میں شریک ہو کر قائم ہوا ہے، اُسے یہاں سے جانے کے بعد بھی قائم رکھیں بلکہ اور زیادہ بڑھا ئیں کیونکہ مومن ہر لمحہ ترقی کرتا ہے۔میں دیکھتا ہوں خدا تعالیٰ کے فضل و کرم سے جماعت میں ایسا اخلاص پیدا ہو رہا ہے جس کی نظیر گزشتہ کچھ عرصہ میں نہیں ملتی۔اگر اسے قائم رکھا گیا اور جماعت کے ہر فرد میں ایسا ہی اخلاص پیدا کرنے کی کوشش کی گئی تو خدا تعالیٰ ہمیں ضرور کامیاب کرے گا۔سب احباب مل کر دعا کریں کہ ہماری زندگی اس لئے ہو کہ خدا تعالیٰ کا دین ساری دنیا میں پھیلے۔اگر ہمیں مال نہیں ملتا تو نہ سہی، اگر پیٹوں پر پتھر باندھنے پڑیں تو کوئی حرج نہیں، اس دنیا میں جس طرح بھی گزارہ ہو سکے ہم کریں گے کیونکہ ہمیں اگلے جہان میں وہ کچھ ملے گا کہ یہ بڑی