خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء) — Page 257
خطابات شوری جلد اوّل ۲۵۷ مجلس مشاورت ۱۹۲۷ء ایک اور بھی علاقہ ہے جہاں بہت جلد اور آسانی سے اسلام پھیل سکتا ہے اور وہ حیدرآباد دکن کی ریاست ہے۔وہاں ۹۰ فیصدی ہندوؤں کی آبادی ہے اور صرف ۱۰ فیصدی مسلمان ہیں۔آجکل کی پولیٹیکل ضروریات کو بھی مدنظر رکھنا ایک ضروری بات ہے۔جب ہندوستان کے لوگوں کو حکومت کے حقوق ملیں گے تو ریاستیں اس سے باہر نہیں رہیں گی اور حیدرآباد جو اس وقت مسلمان ریاست ہے، آبادی کے لحاظ سے حقوق ملنے پر ہندو ریاست ہو جائے گی۔وہاں کے لوگوں میں تبلیغ کرنے میں کچھ آسانیاں بھی ہیں۔جن کا اس وقت بیان کرنا سیاسی حالات سے مناسب نہیں ہے۔پچھلے دنوں دو تین ماہ میں کچھ گاؤں میں تبلیغ کا کام کیا گیا تو دواڑھائی سو لوگ مسلمان ہو گئے مگر بعض وجوہات سے روکیں پیدا ہوگئیں لیکن اب کچھ اور حالات پیدا ہو گئے ہیں۔ہو سکتا ہے کہ اگر وہاں تبلیغ کی جائے تو لاکھوں انسان مسلمان ہو جائیں۔اس طرح ایک طرف تو ریاست مضبوط ہو جائے اور دوسری طرف ہندوؤں کو زک حاصل ہو۔پس ہمیں تبلیغ کے سوال پر غور کرتے ہوئے حیدر آباد کو بھی نظر انداز نہیں کرنا چاہئے اور بنگال اور پنجاب کو مقدم رکھتے ہوئے یہ بھی ذہن میں رکھا جائے کہ اگر کسی اور جگہ کام کرنا ضروری ہو تو وہاں بھی کام کیا جائے۔پنجاب میں اچھوت لوگوں میں تبلیغ کا کام شروع کرتے ہوئے ایک بات کو مدنظر رکھنا ہوگا۔جن حصوں میں اچھوت اقوام رہتی ہیں اُن میں سے بعض میں کام کرنے والوں کے لئے مشکلات بھی ہیں۔گورداسپور کے ضلع میں اچھوت اقوام میں ہم نے چھ ہزار کے قریب روپیہ خرچ کیا مگر کوئی معتد بہ فائدہ نہ ہوا۔وجہ یہ ہے کہ ان اچھوت میں سے ۹۰ فی صدی لوگ اپنا پہلا مذہب بدل چکے ہیں اور اب جو باقی ہیں وہ بھی اسی طرف جاتے ہیں بوجہ اپنی رشتہ داریوں اور تعلقات کے۔اس وجہ سے ایسے علاقوں میں کام کرنا مشکل ہے۔البتہ ملتان ، منٹگمری ، شاہ پور وغیرہ اضلاع میں کام بخوبی ہوسکتا ہے۔گورداسپور یا سیالکوٹ وغیرہ میں مشکل ہے جہاں کے اچھوت کا بہت بڑا حصہ عیسائی ہو چکا ہے۔ہم نے ان علاقوں میں کوشش کر کے دیکھ لیا ہے۔ہمارا خیال تھا کہ ہم مرکز کے زور سے قریب کے علاقہ میں بآسانی کامیاب ہو سکیں گے مگر چونکہ یہ لوگ دلائل سے نہیں بلکہ تمدنی حالات سے کسی مذہب میں داخل ہوتے ہیں اس لئے مشکلات پیش آئیں کیونکہ وہ تعلقات اور رشتہ داریوں کی وجہ