خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 255 of 671

خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء) — Page 255

خطابات شوری جلد اوّل ۲۵۵ مجلس مشاورت ۱۹۲۷ء ٹھہر سکے۔یہ جو انتظام نظر آتے ہیں ، صیغے بنے ہوئے ہیں، کارکن مقرر ہیں ، یہ تو محض اس لئے ہیں کہ وسیع طور پر کام کیا جا سکے لیکن اگر اصل کام ہی رُک جائے اور اُس میں ضعف شروع ہو جائے تو پھر ہمیں کوئی ضرورت نہیں مدرسوں کی کوئی ضرورت نہیں صیغوں کی ، کوئی ضرورت نہیں دفتروں کی ، ہم ان سب کو توڑ دیں گے اور خود دنیا میں نکل جائیں گے تاکہ دین کی خدمت کر سکیں۔ان مٹی کی عمارتوں کو ہمیں کیا کرنا ہے۔یہ اُس وقت ہمارے پاس کہاں تھیں جب مسیح موعود آیا۔اگر ہم ان عمارتوں کے ملبے بیچ کر اور سب کچھ لٹا کر بھی کامیاب ہو گئے تو سمجھیں گے کچھ نہیں کھویا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا ہے ہمیں دلوں کی عمارتیں بنانے کے لئے خدا تعالیٰ نے بھیجا ہے۔ہمیں اینٹ پتھر کی عمارتوں سے کیا غرض۔آپ نے یہ بھی فرمایا آئندہ لوگ آئیں گے جو سنگِ مرمر کی عمارتیں بنائیں گے۔ان پر سونے کا کام کریں گے یہ کام اُن کے لئے رہنے دو۔آؤ ہم دلوں کی عمارتیں بنائیں۔پس اگر ہمیں ان عمارتوں کو فروخت کرنا پڑے، ان زمینوں کو بیچ ڈالنا پڑے تو کوئی پرواہ نہیں۔یہ سارا نظام اُسی وقت تک ہے جب تک ہم اصل فرض اور مقصد کو پورا کر سکتے ہیں۔جب ہم سمجھیں گے کہ اسلام کی عزت اس کی محتاج ہے تو ہمیں ان کے بیچ ڈالنے میں ایک منٹ کے لئے بھی دریغ نہ ہوگا مگر کوئی غیرت مند احمدی پسند نہ کرے گا کہ اُس کا مکان تو باقی رہے اور قوم کی عمارتیں پک جائیں۔اُس کی زمین تو باقی رہے لیکن اسلام کی زمین فروخت ہو جائے۔جب تک ایسے مخلصوں کی جماعت ہم میں موجود ہے اُس وقت تک یہ وقت نہیں آسکتا کہ ہمارا ایک ایک جبہ نہ صرف ہو جائے اور ہماری ایک ایک دیتی نہ بک جائے ، قومی عمارتیں فروخت کی جائیں۔اس وقت ہمیں اُس عزیمت اور اُس ارادہ کی ضرورت ہے جو نبی کے پیرو دکھاتے آئے ہیں۔نہ مال و دولت کی ضرورت ہے نہ جائداد کی ضرورت ہے۔پس ایسی عزیمت پیدا کرو۔اگر صرف آپ لوگ جنہوں نے آج اقرار کیا ہے دین کی خدمت کے لئے کھڑے ہو جائیں تو میں سمجھوں گا اسلام کی فتح کا زمانہ آ گیا اور میں دشمن پر فتح پا گیا۔مگر جو انتظام اس وقت ہے اس کا چلانا ضروری ہے۔اس وقت مدرسوں، اخباروں ،لنگر خانہ، مبلغین وغیرہ کا انتظام ہماری توجہ کو مشوش کرتا رہتا ہے۔ضرورت ہے کہ ایسا ریز روفنڈ قائم