خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء) — Page 256
خطابات شوری جلد اوّل ۲۵۶ مجلس مشاورت ۱۹۲۷ء کیا جائے کہ یہ روز روز کی تشویش دور ہو جائے۔اگر ہم ایسا فنڈ قائم کر لیں تو دُنیوی لحاظ سے ہمیں جو تکلیف اور گھبراہٹ ہوتی ہے وہ بھی نہیں ہوگی۔اگر ۲۵ لاکھ کا ریز روفنڈ قائم کر لیا جائے تو پچاس ہزار سالانہ ہم اس فنڈ کے منافع سے تبلیغ پر صرف کر سکتے ہیں اور پھر کوئی قوم دنیاوی سامانوں کے لحاظ سے بھی ہمارا مقابلہ نہیں کر سکتی۔بے شک تبلیغ کرنا ہمارا کام ہے مگر بعض جگہ ہم صرف اس لئے کام کرتے ہیں کہ باقی مسلمان مرتد نہ ہو جائیں۔اسلام کی شان میں جس میں تمام مسلمان ایک جیسے شریک ہیں بٹہ نہ لگے اور اس کی شہرت وعزت میں فرق نہ آئے اس لئے یہ دوسرے مسلمانوں کا بھی کام ہے۔اس وجہ سے اگر ہم اُن سے بھی اخراجات کا مطالبہ کریں تو یہ ہمارا حق ہوگا کیونکہ یہ دراصل اُن کا کام ہے جو ہم کرتے ہیں۔اس میں ہمارا ذاتی فائدہ نہیں یعنی ہمارے سلسلہ کو اس سے براہ راست کوئی فائدہ نہیں پہنچتا۔ہمارا فائدہ تو متمدن قوموں میں تبلیغ کرنے سے ہے کیونکہ اُن میں سے جو احمدی ہوتا ہے وہ ہمارا باز و بنتا ہے، ہمارا ہاتھ بٹاتا ہے اور جو کام ہم کر رہے ہیں اُس میں شریک ہوتا ہے لیکن جب ہم گری ہوئی قوموں میں اسلام کی اشاعت کرتے اور مرتد ہونے والے مسلمانوں کو اسلام سے جُدا نہیں ہونے دیتے تو کوئی وجہ نہیں کہ سب مسلمانوں سے اس کام کے لئے امداد نہ لیں۔یہ تو اُن پر ہمارا احسان ہے کہ ہم اپنے آدمی ان کا فرض ادا کرنے کے لئے دیتے ہیں۔پس اس کام کے لئے اگر احباب دوسرے مسلمانوں سے کہیں کہ تم بھی روپیہ دو اور ہر طرح ہماری مدد کرو تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام مدرسہ کے لئے دوسروں سے چندہ لے لیتے اور فرماتے اِس میں دوسروں کے بچے بھی پڑھتے ہیں اس لئے کوئی حرج نہیں۔اسی طرح جب ہسپتال بنایا گیا تو اس کے لئے چو ہڑوں تک سے چندہ لیا گیا۔پس جو کام ہم دوسرے مسلمانوں کے فائدہ اور ان کے لئے کرتے ہیں ضروری ہے کہ اُس کے لئے اُن سے چندہ بھی لیں اور چونکہ ادنی اقوام کے مسلمان ہونے کا فائدہ اور مسلمانوں کے مرتد ہونے کا نقصان ان کا ہی ہوتا ہے اس لئے اگر غیر مسلموں کو مسلمان بنانے اور مسلمان کہلانے والوں کو ارتداد سے بچانے کے لئے یہ ۲۵ لاکھ کی رقم دوسرے مسلمانوں سے ہی وصول کی جائے تو ضروری ہے۔جن صوبوں میں اچھوت اقوام میں تبلیغ اسلام کرنے کا ذکر کیا گیا ہے ان کے علاوہ