خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء) — Page 254
خطابات شوری جلد اوّل ۲۵۴ مجلس مشاورت ۱۹۲۷ء پتہ ہمیں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے بتایا ہے اور پھر شکست کھا جائیں!! یہ تو ممکن ہے کہ سورج چڑھے یا نہ چڑھے، یہ بھی ممکن ہے ہمارا وجود ہو یا نہ ہومگر یہ واقعی ناممکن ہے کہ ہم دشمنوں سے شکست کھا جائیں۔خدا تعالیٰ نے ہمارے مخالفین کے لئے ذلت اور نکبت مقرر کر دی ہے جسے کوئی ان سے ٹال نہیں سکتا اور ہمارے لئے خدا تعالیٰ نے کامیابی اور ترقی مقدر کر دی ہے۔اسے بھی کوئی ٹال نہیں سکتا۔ہاں ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اپنے قلوب بدل لیں،سستی کو چستی سے بدل دیں، دین کے لئے قربانی کرنے کے لئے حدیں نہ لگائیں کہ اس قدر قربانی کریں گے اس سے آگے نہیں۔جب ہم اس نیت اور اس ارادہ کو لے کر کھڑے ہوں گے تو دشمن ہر جگہ ہمارے مقابلہ سے پسپا ہونا شروع ہو جائے گا۔ایک مومن کا دل کس چیز سے ڈرسکتا ہے؟ کیا اس سے کہ اس کے مقابلہ میں دشمنوں کی تعداد بہت زیادہ ہے اور ان کے پاس سامان کثرت سے ہے؟ کیا رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اکیلے کھڑے ہو کر ساری دنیا کا مقابلہ نہیں کیا تھا؟ کون سے آدمی تھے جن پر آپ نے اپنی کامیابی کا انحصار رکھا تھا؟ کونسی انجمن تھی جو آپ کو مدد دیتی تھی؟ کونسا بیت المال تھا جس سے ضروریات پوری کرتے تھے؟ کچھ بھی نہ تھا مگر خدا تعالیٰ نے آپ ہی کو کامیاب کیا اور آپ کے مقابلہ میں ساری دنیا کو شکست فاش دی۔اسی طرح حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا ہے اگر مجھے چالیس مومن مل جائیں تو ساری دنیا کو فتح کر سکتا ہوں۔کیا ہم میں آج تک چالیس مومن بھی پیدا نہیں ہوئے؟ اگر ساری جماعت غرباء کی جماعت ہے جو دین کی اشاعت کے لئے روپیہ نہیں دے سکتی تو نہ دے کم از کم چالیس مومن ہی کھڑے ہو جائیں گے جو گلے میں جھولیاں ڈال لیں گے اور بھیک مانگ کر پیٹ بھرتے ہوئے دین کی خدمت کرتے رہیں گے۔میں تو اسلام کے لئے بھیک مانگنے سے بھی نہیں ڈرتا اور میں اسلام کے لئے جھولی ڈالنے کے لئے تیار ہوں اور اگر میری اولاد میں سے کوئی ایسا ہو جو اسلام کے لئے بھیک مانگنا پسند نہ کرتا ہو تو میں اُس کی شکل تک دیکھنے کے لئے تیار نہیں ہوں۔اگر میرے ساتھ دس آدمی بھی اپنے آپ کو اسلام کے لئے قربان کرنے کے لئے تیار ہو جائیں گے تو ہمیں کسی قسم کی مایوسی نہ ہوگی۔ایمان کی طاقت کے مقابلہ میں کسی اور کی طاقت ہی کیا ہے جو