خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 253 of 671

خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء) — Page 253

خطابات شوری جلد اوّل ۲۵۳ مجلس مشاورت ۱۹۲۷ء وقفہ کریں گے۔خدا تعالیٰ ہمارے اس اقرار پر گواہ رہے۔خدا تعالیٰ وہ لفظ میرے منہ سے نہیں نکلتے مگر یاد رکھو جو اس وعدہ کے بعد پیٹھ دکھائے گا وہ خدا کے سخت غضب کا نشانہ بنے گا۔پس آج سے اِس وعدہ کو یا د رکھو اور دوسروں سے بھی وعدہ کراؤ۔یہ نہیں کہ اُنہیں منہ سے کہہ دو بلکہ ہر دوست کو پکڑو اور اُس کا ہاتھ پکڑ کر اُس سے اقرار لو کہ تم بھی اسی طرح خدمت دین کے لئے تیار ہو۔ہر احمدی مرد، عورت، جوان، بچہ، بوڑھا اقرار کرے کہ اپنا ذرہ ذرہ مٹا دوں گا مگر اسلام کی خدمت سے پیچھے نہیں ہٹوں گا۔ہم نے آج خدا تعالیٰ سے بہت بڑا اقرار کیا ہے اور میں دعا کرتا ہوں کہ خدا تعالیٰ ہمیں اس کے پورا کرنے کی توفیق دے۔اب میں یہ بیان کرنا چاہتا ہوں کہ اس وقت کامیابی کے سامان کس قدر موجود ہیں اور اگر کوشش کی جائے گی اور سچے دل سے کی جائے گی تو بہت بڑی کامیابی حاصل ہوگی۔ابھی تھوڑا عرصہ ہوا لاہور کے ایک محلہ کے متعلق جہاں مسلمانوں کی آبادی زیادہ ہے، معلوم ہوا ہے کہ وہاں کے بہت سے چھ ہڑے مسلمان ہیں مگر خفیہ۔ہمارے ایک دوست کے گھر میں اتفاقاً ان کی چوہڑی نے بتایا کہ وہ مسلمان ہے اور روزے رکھتی ہے، اُس کے گھر کے لوگ بھی روزے رکھتے ہیں۔اس دوست کی رائے ہے کہ اگر ان لوگوں کو تحریک کی جائے تو کوئی وجہ نہیں کہ وہ علی الا علان مسلمان نہ ہو جائیں۔یہ اُسی رو کا اثر ہے جس کے ذریعہ بہت بڑا انقلاب آنے والا ہے کہ ایک غیر احمدی کا مجھے خط ملا ہے جو ہندو سے مسلمان ہوا ہے۔اُس نے لکھا ہے میں کئی لوگوں کو مسلمان بنا چکا ہوں۔قلعی کرنے کا کام کرتا ہوں۔اگر آپ اپنا کوئی آدمی بھیجیں جو میرے ساتھ مل کر تبلیغ کا کام کرے تو میں خود بھی احمدی ہو جاؤں گا اور اور لوگوں کو بھی احمدی کراؤں گا۔اسی قسم کے کئی خطوط آ رہے ہیں۔معلوم ہوتا ہے لوگوں کے دل ہل چکے ہیں۔جس طرح اس وقت دشمن نے اسلام پر سخت حملہ کیا ہے۔اسی طرح خدا تعالیٰ نے بھی اپنی طرف سے فوجیں نازل کر دی ہیں کہ لوگوں کے دلوں کو ہلا دیں۔اب صرف عُقدِ ہمت کی ضرورت ہے۔ایک دوست نے کہا ہے اگر ہم ہندوستان میں شکست کھا گئے تو پھر کسی جگہ فتح پانا نا ممکن ہوگا۔مگر میں کہتا ہوں یہ ناممکن ہے کہ ہم اُس اسلام کو لے کر کھڑے ہوں جس کا