خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء) — Page 252
خطابات شوری جلد اوّل ۲۵۲ مجلس مشاورت ۱۹۲۷ء کر کے کامیاب ہونا ہے تو اُسی طرح کرو جس طرح صحابہ نے کیا کہ تم میں سے ہر فرد سمجھے کہ میں اسلام کی خاطر قربان ہو جاؤں گا اور خواہ ایک بھی مسلمان نہ ہومگر اپنے آپ کو اسلام کی تبلیغ میں فنا کر دوں گا۔کیونکہ عزت کی موت ہزار درجہ بہتر ہے ذلت کی زندگی سے۔اگر تم یہ نہیں کر سکتے تو پھر تمہارا دو ہزار یا چار ہزار یا لا کھ دولاکھ روپیہ گانا بھی فضول ہے۔پس میں احباب سے اب بھی کہتا ہوں یہ قدم اُٹھاتے ہوئے سوچ لیں کہ دو ہزار جو اس وقت منظور ہوا ہے اس پر کفایت نہیں ہو سکے گی۔ممکن ہے اور ضرورت ہو اور بہت زیادہ ضرورت ہو اُس وقت اس ضرورت کا پورا کرنا ہمارا فرض ہوگا۔ملکانوں میں جب شدھی کا فتنہ شروع ہوا تو ابتداء میں اُس کے لئے چار مبلغ کافی قرار دیئے گئے تھے۔مگر جب کام شروع ہوا تو ایک وقت ایسا بھی آیا کہ ۹۶ مبلغ ہمیں اُس علاقہ میں رکھنے پڑے اور ہزار ہا روپیہ ہمارا صرف ہوا۔پس ہمیں سمجھ لینا چاہئے کہ ہم دشمن کو جس کے پاس کافی سامان ہے محدود نہیں کر سکتے۔دشمن کے ذرائع جتنے وسیع ہوں گے ہم بھی پھیلنے پر مجبور ہوں گے۔میں یہ کہہ کر دوستوں کو ڈرانا نہیں چاہتا۔میں تو کتے کی موت سے بدتر سمجھتا ہوں کہ اپنے آپ کو اسلام کی ضرورت کے مقابلہ میں کسی شرط کا پابند کروں۔مگر میں آپ لوگوں سے پوچھتا ہوں کہ کیا ان حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے اِس کام کو جاری کرنے کے لئے تیار ہو؟ تمام کے تمام نمائندوں نے متفقہ طور پر عرض کیا ہم اس کے لئے تیار ہیں۔اس پر حضور نے فرمایا: - آج اس مقدس سرزمین میں جس کے لئے خدا تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ اس میں وہی برکات رکھی گئی ہیں جو کہ مکہ اور مدینہ کی پاک زمین میں ہیں، آج اس مقدس جگہ میں جس کا خدا تعالیٰ نے مکہ اور مدینہ نام رکھا ہے، آج اس زمین میں جسے خدا تعالیٰ نے ائم القری کا نام دیا ہے، آج اس زمین میں جس میں خدا تعالیٰ نے اُس نبی کو مبعوث فرمایا ہے جس کی آمد کی سب انبیاء خبر دیتے رہے ہیں، آج اس مقدس زمین میں اور اس مقدس جلسہ میں کھڑے ہو کر ہم لوگ اقرار کرتے ہیں کہ اگر ہمارے جسموں کا ذرّہ ذرّہ بھی اشاعت اسلام میں لگ جائے گا تو ہم اس کام کو بند نہ