خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 251 of 671

خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء) — Page 251

خطابات شوری جلد اوّل ۲۵۱ مجلس مشاورت ۱۹۲۷ء ہو جائے گی اور آئندہ سال اس کے لئے کچھ نہیں دینا پڑے گا۔چنانچہ اس وقت سیدھے سادے مسلمانوں کی طرح خیال کر لیا ہوگا کہ بنگال اور پنجاب میں اچھوت اقوام میں تبلیغ کا کام دو ہزار کی رقم میں ایک سال کے اندر اندر ختم ہو جائے گا حالانکہ ممکن ہے یہ کام دس سال میں یا بیس سال یا چھپیں سال میں ختم ہو۔اور دو ہزار چھوڑ دو لاکھ اس میں خرچ ہو جائے۔اس بات کو نظر انداز کر کے کام شروع کرنے پر آمادگی ظاہر کی جاتی ہے۔پھر اس کے علاوہ اور کاموں میں جو ہر سال اضافہ ہوتا ہے اُس کو بھی مدنظر نہیں رکھا جاتا۔دوسری بات جسے نظر انداز کر دیتے ہیں وہ یہ ہے کہ دشمن کے متعلق یہ خیال کر لیتے ہیں کہ جہاں ہم اُس پر حملہ کریں گے وہ وہاں ہی ٹھہرا رہے گا۔یا یہ کہ جتنی طاقت ہم خرچ کریں گے اُتنی ہی وہ ہمارے مقابلہ میں کرے گا۔مگر یہ صیح نہیں ہے۔یہ خیال کر لینا کہ پانچ سو کی رقم میں ہم بنگال میں تبلیغ کا کام ختم کر لیں گے اور دشمن اس جگہ اتنی ہی طاقت لگائے گا بے وقوفی ہے۔دشمن جب یہ دیکھے گا کہ ہم نے اس علاقہ میں کام شروع کیا ہے تو وہ ہوشیار جرنیل کی طرح اپنے کام کو وسیع کرتا جائے گا کیونکہ وہ جانتا ہے کہ ہمارے پاس اتنے ذرائع نہیں ہیں کہ ہر جگہ اُس کا مقابلہ کر سکیں۔اور کام کو اس قدر وسعت دے سکیں کہ ہر جگہ اُسے ناکام رہنا پڑے پس تبلیغ کے کام میں ایک تو اس بات کو مدنظر رکھنا نہایت ضروری ہے کہ ہمیں کام شروع کرنے کے بعد ایک عرصہ تک ہر سال اپنے اخراجات کو بڑھانا پڑے گا۔دوسرے جب ہم نے اچھوت لوگوں کو مسلمان کر لیا تو اس کے بعد ہماری ذمہ داری ختم نہ ہو جائے گی بلکہ یہ سوال سامنے آ جائے گا کہ ان کو تعلیم دو اور اسلامی رنگ میں ان کی تربیت کرو۔پھر یہ سوال اُنہی تک محدود نہیں رہے گا جو مسلمان ہوں گے بلکہ آگے بڑھتا جائے گا۔ایک جگہ کے جو لوگ مسلمان ہوں گے وہ کہیں گے ہمارے فلاں فلاں جگہ رشتہ دار ہیں، اُن کو بھی مسلمان بناؤ۔پھر ہمیں اُن کے لئے خرچ کرنا پڑے گا اور اس طرح خرچ بڑھے گا۔ان مشکلات کو کام شروع کرتے وقت مد نظر نہیں رکھا جاتا۔مگر یہ مشکلات کوئی نئی نہیں ہیں۔صحابہ کو بھی پیش آئیں اور وہ ان پر غالب آئے تھے۔ہاں ان میں اور ہم میں یہ فرق ہے کہ وہ سمجھتے تھے ہمارا ذرہ ذرہ بھی اسلام کی اشاعت کے لئے قربان ہو جائے تو ہمیں اس سے دریغ نہ ہوگا مگر ہم میں یہ بات نہیں ہے۔اگر آپ لوگوں نے کام کرنا ہے اور کام