خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء) — Page 250
خطابات شوری جلد اوّل ۲۵۰ مجلس مشاورت ۱۹۲۷ء ذمہ واری عائد کی ہے اُسے مدنظر رکھو اور دوسری طرف نظام جماعت قائم رکھنے اور کمزور بھائیوں کو اُبھارنے کی جو ذمہ داری آپ لوگوں پر بحیثیت نمائندہ کے عائد ہوتی ہے اُس کو مد نظر رکھ کر ایسی رائے پیش کرو جس پر بغیر قدم کے لڑکھڑانے ، بغیر کسی قسم کی سستی آنے اور بغیر عزیمت میں فرق آنے کے عمل کر سکو۔“ اس کے بعد جب سب کمیٹی کی تجویز کی تائید کرنے والوں کو ووٹ دینے کے لئے حضور نے کھڑے ہونے کا ارشاد فرمایا اور اُن کو شمار کیا گیا تو ۲۰۸ را ئیں شمار ہوئیں۔اس پر حضور نے فرمایا: - ۲۰۸ نمائندوں کی رائے ہے کہ اچھوت اقوام میں باوجود مالی تنگی کے تبلیغ کا کام شروع کیا جائے۔جس کے قریباً قریباً یہ معنے ہیں کہ تمام نمائندگان کی رائے ہے۔جو لوگ کھڑے نہیں ہوئے وہ یہاں کے صیغوں کے انچارج ہیں جو اس لئے کھڑے نہیں ہوئے کہ شاید اُن کا رائے دینا مناسب نہ ہو۔“ اس کے بعد اس تجویز پر رائیں لی گئیں کہ پنجاب اور بنگال دونوں صوبوں کی اچھوت اقوام میں تبلیغ شروع کی جائے یا کسی ایک صوبہ میں؟ تو ۱۸۳ آراء دونوں صوبوں میں کام کرنے کے متعلق تھیں اس کے بعد حضور نے فرمایا :- ۱۸۳ دوستوں کی یہ رائے ہے کہ دونوں صوبوں میں کام ہو۔پہلے ۲۰۸ دوستوں کی رائے تھی کہ باوجود مالی تنگی کے اچھوت اقوام میں تبلیغ کا کام شروع کیا جائے۔میں ان دونوں تجویزوں کو پسند کرتا ہوا منظوری دیتا ہوں۔مگر چند امور پر غور کرنا ضروری ہے۔انہی کے نہ سمجھنے کی وجہ سے مشکلات پیش آتی ہیں اور وہ یہ ہیں کہ ہماری جماعت کے لوگ جب دین کے لئے خرچ کرنے کی ضرورت دیکھتے ہیں تو سچے مسلمانوں کے طور پر جو بھی کھاتے کے حساب سے ناواقف ہوتے ہیں اور جو دنیا داروں کی طرح مال کی حفاظت کرنے یا خرچ کرنے کے طریق سے واقف نہیں ہوتے ، خرچ کا ایک اندازہ اور اپنی جیبوں میں ہاتھ ڈال کر دیکھتے ہیں تو قربانی و ایثار کے جوش میں کہتے ہیں فلاں کام بھی جاری کر دیا جائے۔مگر اُس وقت اُن کی نظر سے دو باتیں پوشیدہ ہوتی ہیں۔ایک تو یہ کہ وہ سمجھتے ہیں اس سال کے آخر تک جس کے لئے خرچ دینے کے لئے تیار ہوئے ہیں یہ ہم ختم