خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء) — Page 203
خطابات شوری جلد اوّل اب اس مسئلہ کو چھوڑتے ہیں۔“ ۲۰۳ مجلس مشاورت ۱۹۲۶ء چندہ کی ادائیگی میں سستی کرنیوالوں کے متعلق سب کمیٹی بیت المال کی ایک تجویز کہ جو لوگ چندہ نہیں دیتے یا مقررہ شرح کے ساتھ نہیں دیتے ان کے لئے کوئی نہ کوئی تعزیر ضرور ہونی چاہئے ، کے ضمن میں حضور نے فرمایا : - ایجنڈا میں دریافت یہ کیا گیا تھا کہ کونسا تعزیری طریق چندہ نہ دینے والوں کے متعلق اختیار کیا جائے مگر تجویز میں یہ نہیں بتایا گیا بلکہ یہ کہا گیا ہے کہ فلاں یا فلاں یا فلاں سزا تجویز کی جائے حالانکہ بتانا یہ چاہئے تھا کہ پہلے یہ سزا دی جائے اگر اس کا اثر نہ ہو تو پھر یہ اور پھر یہ۔مگر ایسا نہیں کیا گیا اور جو صورت پیش کی گئی ہے اس کا کوئی فائدہ نہیں ہے اس لئے پہلے ایک سب کمیٹی کی ایک تجویز کے متعلق جو حربہ استعمال کیا گیا ہے وہ اس کے متعلق بھی ہونا چاہئے یعنی یہ خلاف قاعدہ قرار دی جائے۔اس قسم کی باتوں کا کیا فائدہ ہو سکتا ہے جن پر عمل نہ کیا جا سکے۔دراصل چندہ وصول نہ ہونے میں مرکزی دفتر اور مقامی انجمنوں کا بھی قصور ہے۔بعض انجمنیں بے شک یہ کوشش کرتی ہیں کہ اپنا سالا نہ چندہ جو اُن کے ذمہ لگایا جائے پورا کریں۔اس طرح وہ مالی لحاظ سے تو اپنے فرض سے سبکدوش ہو جاتی ہیں مگر جو لوگ چندہ دینے میں سُست ہوتے ہیں اُن سے چندہ نہیں لیا جاتا اور وہ اور زیادہ سست ہو جاتے ہیں۔مقامی جماعتوں کا فرض ہونا چاہئے کہ نہ صرف اپنے مقررہ بجٹ کو پورا کریں بلکہ سب سے چندہ وصول کریں۔بے شک وہ چند آدمیوں سے زیادہ چندہ وصول کر کے بجٹ پورا کر دینے پر انسانوں کے سامنے فرض سے سبکدوش ہو سکتے ہیں لیکن خدا تعالیٰ کے آگے نہیں ہو سکتے کیونکہ ان کا یہ بھی فرض ہے کہ سُستوں کو بھی اُٹھائیں۔پھر چندہ کی وصولی نہ ہونے میں مرکزی دفتر بھی ذمہ وار ہے۔میں ہفتہ وار ناظروں سے رپورٹ لیتا ہوں۔بیت المال کی رپورٹ میں چار پانچ ماہ کے بعد یہ لکھا ہوا نظر آتا - ہے کہ معلوم نہیں چندہ میں کیوں سستی ہو گئی ہے۔میں کہتا ہوں جس افسر کو عملہ، دفتر اور کرک