خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 202 of 671

خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء) — Page 202

خطابات شوری جلد اوّل ۲۰۲ مجلس مشاورت ۱۹۲۶ء طرح تجویز پیش کر کے آپ لوگ خود مجبور کر رہے ہیں کہ خرچ کیا جائے۔ہاں اگر اتفاقی موقع آ جائے تو اور بات ہے اُس پر عمل ہو سکتا ہے اور میری اپنی بھی خواہش ہے کہ بعض علاقوں میں جاؤں۔مگر کسی جگہ بُلانے اور خاص انتظام کے ساتھ جانے سے اتنے اخراجات بڑھ جائیں گے کہ موجودہ حالت تو الگ رہی اگر مالی حالت اچھی بھی ہوتی تو بھی برداشت نہ کئے جا سکتے۔کیونکہ یہ تو نہیں ہوگا کہ میں ایک مبلغ کی طرح چلا جاؤں۔میرے ساتھ ضروری سٹاف بھی ہوگا تا کہ شہروں کے زیادہ سے زیادہ لوگ فائدہ اُٹھا سکیں اور اگر یہ نہیں ہوگا تو پھر ریزولیوشن کا مطلب یہ ہوا کہ خلیفہ فقیروں کی طرح پھرا کرے۔میں سمجھتا ہوں آپ لوگوں کے مدنظر یہ بات نہیں بلکہ یہ ہے کہ شور پڑ جائے اور اس کے لئے بیسیوں آدمی ساتھ ہونے چاہئیں۔مجھے بیماری کی وجہ سے جب لاہور جانا پڑتا ہے تو بیرونی جماعتوں کے آ جانے کی وجہ سے کئی کئی ہزار روپیہ خرچ ہو جاتا ہے اور میں لاہور سے جلدی بھاگا کرتا ہوں کہ وہاں کی جماعت کا اخراجات کی وجہ سے دیوالا نہ نکل جائے۔پس اس کو اگر صحیح بھی سمجھا جائے تو بھی اس میں بہت سی دھنیں ہیں۔مالی مشکلات کی وجہ سے جو کمز ور لوگ ہیں وہ گھبرا جائیں گے۔وہ یہ نہ دیکھیں گے کہ یہ تجویز کثرت نے پیش کی تھی بلکہ مجھ پر اعتراض کریں گے اور کہیں گے اگر بچہ نادان تھا تو ماں کا فرض تھا کہ اسے روکتی ، اس نے کیوں ایسے کام کی اجازت دی۔چند ہی دن ہوئے ایک دوست کا خط آیا، ایک بات کے متعلق میں نے بار بار انہیں منع کیا تھا مگر نہ مانا۔اب لکھا ہے میں مانتا ہوں کہ آپ نے اس بات سے منع کیا تھا مگر میں بچہ تھا آپ نے مجھے کیوں سختی سے نہ روک دیا۔تو پیچھے بھی کہہ دیا جاتا ہے کہ ہم سے غلطی ہو گئی تھی آپ نے کیوں نہ روک دیا۔اب چونکہ دوستوں کے جوش ٹھنڈے ہو گئے ہیں کیونکہ انہوں نے اپنے اپنے خیالات کا اظہار کر لیا ہے اور دونوں طرف کے اصحاب نے اپنے اپنے اخلاص کا ثبوت دیا ہے۔یہ کس طرح کہا جا سکتا ہے کہ جو لوگ یہ حسن ظنی رکھتے ہیں کہ خلیفہ کے جانے سے ہزاروں آدمی مان جائیں گے وہ مخلص نہیں یا اُن کی نیت خلیفہ کی ہتک کرنا ہے یہ تو ان کے حد درجہ کے اخلاص کا ثبوت ہے اور پھر جو کہتے ہیں نہیں جانا چاہئے یہ شان کے خلاف ہے وہ بھی مخلص ہیں چونکہ سب نے اپنا جوش نکال لیا ہے اور میں نے بھی نکال لیا ہے اس لئے