خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء) — Page 204
خطابات شوری جلد اوّل ۲۰۴۔مجلس مشاورت ۱۹۲۶ء دیئے گئے ہوں، اُسے اپنے خاص کام کے متعلق یہ نہیں لکھنا چاہئے کہ اسے خبر نہیں کیوں کمی واقعہ ہو گئی۔اسے خبر رکھنی چاہئے تھی کہ کہاں چندہ کم ہوا اور کیوں کم ہوا ہے مگر اس کی کوئی کوشش نہیں کی جاتی ، چار پانچ ماہ کے بعد آنکھیں کھولتے ہیں اور صرف اتنا دیکھتے ہیں کہ کمی ہو گئی ہے مگر پھر بھی یہ پتہ نہیں ہوتا کہ کہاں ہوئی اور کیوں ہوئی ہے حالانکہ ہر مہینہ اُس جماعت کو گرفت کی جانی چاہئے جس کے چندہ میں کمی واقعہ ہو اور اس کی رپورٹ میرے پاس آئے اور میں جانتا ہوں ایسی کوئی جماعت نہیں کہ جب میری طرف سے اس کے پاس کمی چندہ کی اطلاع جائے تو وہ اسے پورا کرنے کی کوشش نہ کرے۔تو یہ مرکزی دفتر کی بھی سستی ہے۔بے شک اسے یہ معلوم نہیں ہوسکتا کہ کسی جماعت میں چندہ کم ہونے کے کیا اسباب پیدا ہو گئے اگر چہ یہ بھی معلوم کئے جاسکتے ہیں مگر یہ تو معلوم ہوسکتا ہے کہ فلاں جماعت نے اس مہینہ میں کم چندہ بھیجا ہے۔پس سب سے چندہ وصول نہ ہونے کا باعث یا تو مرکزی دفتر ہی کی سستی ہے یا وہاں کے کارکنوں کی سستی۔ہاں کئی لوگ سُست بھی ہیں مگر اُن کو ہوشیار کرنے کے سب ذرائع استعمال کرنے چاہئیں۔پھر بھی اگر کسی کی اصلاح نہ ہو تو سزا تجویز ہونی چاہئے مگر وہ بھی بہت سوچ سمجھ کر تین مہینہ تک چندہ نہ دینے والوں کو جماعت سے نکال دینے کے متعلق حضرت خلیفہ اول کے زمانہ میں بھی بحث ہوتی رہی ہے۔میر حامد شاہ صاحب مرحوم اس پر بہت زور دیتے تھے اور اب بھی یہ بات پیش کی جاتی ہے مگر اتنا تو خیال کرو کہ ایک شخص جو ہم سے تعلق نہیں رکھتا اور ایک وہ جو جماعت سے نکال دیا جائے اِن دونوں میں فرق ہے۔پہلے کے متعلق تو یہ ہے کہ اسے جیسا روحانی تعلق ہونا چاہئے ویسا نہیں ہے ورنہ بظاہر وہ اپنا تعلق سمجھتا ہے اور دوسرے کے متعلق یہ کہ اُس کا جماعت کے ساتھ جو رسمی تعلق تھا اُسے بھی منقطع کر دیا جائے۔جولوگ اس پر زور دیتے ہیں وہ ذرا کشتی نوح کو کھول کر پڑھیں ان کو معلوم ہو جائے گا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی جماعت میں ہونے کے متعلق کتنی باتیں ہیں جو اُن میں بھی نہ ہوں گی۔اصل میں مرکزی دفتر اور کارکنوں کو کوشش کرنی چاہئے کہ جو سُست ہیں اُن سے چندہ وصول ہو۔مرکزی دفتر کا تو یہ فرض ہے کہ معلوم کرے کہاں سے چندہ کم آیا ہے اور اس