خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء) — Page 195
خطابات شوری جلد اوّل ۱۹۵ مجلس مشاورت ۱۹۲۶ء ابتداء سوال یہ ہوا تھا جو قانونی نقص کی وجہ سے پیش نہ ہوا مگر میں اس کی اصل حیثیت سے بحث کروں گا۔سوال یہ تھا کہ خلیفہ مختلف شہروں کے دورے کرے۔چوہدری ظفر اللہ صاحب نے کہا یہ ایسے الفاظ ہیں جن سے خلیفہ کی ہتک ہوتی ہے اور الفاظ پیش کرنے والوں کے لئے نفرت کا ووٹ پاس کرنا چاہئے۔چوہدری صاحب کو یہ یاد رکھنا چاہئے تھا کہ تجویز پیش کرنے والے دوست مخلص تھے۔ان کی غرض کبھی یہ نہ تھی کہ خلیفہ کی ہتک کریں اور چوہدری صاحب کی بھی یہ منشاء نہ تھی کہ ان کی نیت ہتک کرنے کی تھی، انہوں نے صرف الفاظ کو ناپسندیدہ قرار دیا تا ہم کہا گیا کہ ووٹ آف سنشوئر (VOTE OF CENSURE) پاس کرنا چاہئے۔یہ چونکہ نیت کے متعلق ہوتا ہے اس کے ازالہ کے لئے اور اس کے اثر کو مٹانے کے لئے میں کہتا ہوں کہ یہ ناپسندیدہ بات تھی اور چونکہ خود چوہدری صاحب نے اس کی تشریح کر دی ہے اس لئے اسی تشریح کو یاد دلانے سے زیادہ میں کچھ نہیں کہنا چاہتا۔میں چوہدری صاحب سے اس بات میں متفق ہوں کہ تجویز کے الفاظ موقع کے لحاظ سے ہتک آمیز تھے کیونکہ ان کا مطلب یہ تھا کہ اس کمیٹی کے ممبروں نے یہ خواہش ظاہر کی۔ہے کہ جماعت خلیفہ کے دروازہ پر جائے اور جا کر کہے کہ آپ تبلیغ کے لئے باہر نکلیں۔میں ابھی اس مسئلہ پر آتا ہوں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم تبلیغ کے لئے جاتے رہے اور خلیفہ کا جانا کیسا ہے۔پہلے میں یہ بتانا چاہتا ہوں کہ نبی یا خلیفہ کا خود کہیں تبلیغ کے لئے جانا اور اسے ماننے والوں کا کہنا کہ وہاں جا کر تبلیغ کرو، اِن دونوں باتوں میں کتنا فرق ہے۔میں کہتا ہوں بادشاہ سے کہنا کہ کہیں جائے اور اُس کا خود کسی جگہ چلا جانا تمدن کے لحاظ سے فرق رکھتا ہے یا نہیں؟ یا بادشاہ کا اپنے کسی ملازم کے گھر چلا جانا یا اسے یہ کہنا کہ فلاں کے گھر جائے اس میں عقلی طور پر کوئی فرق ہے یا نہیں؟ ایک جگہ وہ اپنی مرضی اور خواہش سے جاتا ہے اور ایک جگہ خواہش کی جاتی ہے کہ وہ جائے۔میں سمجھتا ہوں دُنیا کے تمدن اور اصول کے لحاظ سے ان دونوں باتوں میں بہت بڑا فرق ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے متعلق ہی موٹی مثال ہے۔آپ دہلی ، لاہور، جالندھر، لدھیانہ، امرتسر، سیالکوٹ تشریف لے گئے لیکن جب آپ کے سامنے یہ سوال پیش کیا گیا کہ فلاں راجہ آپ سے ملنا چاہتا ہے تو اُس وقت آپ نے یہ نہ کہا کہ میں دہلی وغیرہ مقامات پر جو گیا تھا اُس کے پاس بھی جاتا