خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 194 of 671

خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء) — Page 194

خطابات شوری جلد اوّل ۱۹۴ مجلس مشاورت ۱۹۲۶ء ناظروں کے متعلق ہو گی تو انہیں ہدایت دے دی جائے گی۔“ مجلس مشاورت کے دوسرے دن خلیفہ المسیح بڑے شہروں کا دورہ فرما ئیں ۴۔ا ۴۔اپریل ۱۹۲۶ء کو پہلے اجلاس میں سب کمیٹی صیغہ دعوۃ و تبلیغ کی طرف سے یہ تجویز پیش ہوئی کہ حضرت خلیفہ امسیح کی خدمت میں درخواست کی جائے کہ بڑے بڑے شہروں کا دورہ فرمائیں۔بحث کے دوران میں اس تجویز کے خلاف اور اس کے حق میں ممبران نے جوش و خروش سے اپنی اپنی آراء کا اظہار کیا۔طویل بحث کے بعد رائے شماری کروائی گئی۔اس کے بعد حضور نے دونوں گروہوں کے جذبات کو پیش نظر رکھتے ہوئے ایک دلنواز خطاب سے وو احباب کو نوازا جو سب کے لئے تسکین اور ہدایت کا موجب ہوگا۔حضور نے فرمایا : - یہ ریزولیوشن اپنی نوعیت اور تغیرات کے لحاظ سے جو مختلف لوگوں کے جذبات کے ماتحت پیدا ہوتے رہے، نہایت عجیب ریزولیوشن ہے۔اس وقت اس کی تائید میں ۱۰۵ رائیں ہیں اور مخالف ۷۵۔جس وقت یہ ریزولیوشن پیش ہوا اور بعض دوستوں نے اس کے خلاف تقریریں کیں تو یوں معلوم ہوتا تھا کہ ساری کی ساری مجلس اس کے خلاف بول اُٹھی ہے۔پھر جب بعض نے تائید میں تقریریں کیں تو یوں معلوم ہوا کہ سارے لوگ اس کی تائید میں ہیں۔پھر ایسی کشمکش جاری رہی کہ صحیح اندازہ نہیں لگایا جا سکتا تھا کہ جذبات کہاں لے جا رہے ہیں۔میرے نزدیک بجائے اس کے کہ ٹھنڈے دل سے اس معاملہ پر غور کیا جاتا ، جذبات کو اتنا قابو پانے دیا گیا کہ تمام گفتگو جو ہوئی وہ عقل اور شعور پر مبنی ہونے کی بجائے جذبات پر مبنی تھی۔چنانچہ وہ الفاظ ناپسندیدہ جو تقریروں میں استعمال کئے گئے دلالت کر رہے تھے کہ دوست جذبات کے میدانوں میں چکر لگا رہے ہیں اور وہ ٹھنڈی طبیعت جو مومن کے ساتھ لگی رہتی ہے تھوڑے عرصہ کے لئے ان سے جُدا ہوگئی ہے۔میں اُمید کرتا ہوں کہ آئندہ تقریروں میں جذبات کو قابو رکھا جائے گا اور ایسے الفاظ نہ استعمال کئے جائیں گے جو ناپسندیدہ ہوں، دلوں کو دکھانے والے اور شقاق پیدا کرنے والے ہوں۔اس کے بعد میں اصل مسئلہ کو لیتا ہوں۔