خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 196 of 671

خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء) — Page 196

خطابات شوری جلد اوّل ۱۹۶ مجلس مشاورت ۱۹۲۶ء ہوں بلکہ یہ کہا کہ پیاسا کنویں کے پاس آتا ہے کنواں پیاسے کے پاس نہیں جایا کرتا۔یہ بات بھی بتاتی ہے کہ دونوں میں فرق ہے۔یہ بھی کہا گیا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام بعض مقامات پر دوسروں کی درخواست پر تشریف لے گئے مگر یہ جانا ایسا ہی ہے جیسے دعوت پر کوئی بلائے۔اب مجھے غریب بھی اپنے ہاں دعوت پر بلاتے ہیں اور امیر بھی۔اگر مجھے فرصت ہو، صحت ہو تو میں جاتا ہوں۔دراصل اس قسم کی دلیلیں نہیں ہوسکتیں۔کسی جگہ کے لوگوں کا بلا نا اور پھر اُس کے متعلق فیصلہ کرنا کہ جانا چاہئے یا نہیں اور بات ہے اور یہ کہنا کہ جانا چاہئے اور بات ہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کے متعلق جو کہا گیا ہے اس کی نسبت مولوی سید سرور شاہ صاحب نے جو کچھ کہا ہے وہ مجھے بھی گراں گزرا۔شاید اختصار کی وجہ سے وہ اپنا مطلب پورانہیں بیان کر سکے۔یہ کہ دینا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے وقت حالات اور تھے جو اب نہیں ہیں اس لئے ان باتوں پر عمل نہیں ہو سکتا یہ اُن لوگوں کے ہاتھوں میں ہتھیار دینا ہے جو شرعی احکام پر عمل کرنا نہیں چاہتے۔مگر میرے نزدیک یہ بھی صحیح نہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اُسوہ کا یہ مطلب ہے کہ ہر عمل میں آپ کے نمونہ کی پابندی لازمی ہے۔مثلاً اس وقت ہمارا جو لباس ہے یہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا لباس نہ تھا پھر کیا ہم اُسوہ حسنہ کی خلاف ورزی کرنے والے ہوئے؟ اس وجہ سے اسوہ حسنہ کی تشریح کرنی پڑے گی اور پھر اس کی پابندی کرنی ہو گی۔یہ بھی بحث کی گئی ہے کہ اس مجلس میں تجویز پیش کرنے سے خلیفہ پر پابندی عائد ہوگی اور اس کے جواب میں کہا گیا ہے یہ تو بطور مشورہ ہے۔میرے نزدیک یہ صحیح بات ہے کہ یہاں جو ریزولیوشن پیش ہوتا ہے مشورہ کے طور پر ہوتا ہے نہ کہ پاس قرار پاتا ہے اس لئے یہ اعتراض درست نہیں، اس سے خلیفہ پر پابندی نہیں ہوتی۔مگر ایک اور سوال پیدا ہوتا ہے اور وہ یہ کہ کسی بات کے گر دو پیش کے حالات اور روح کو بھی مدنظر رکھا جاتا ہے۔کبھی ایسا ہوتا ہے کہ درخواست میں التجاء ہوتی ہے مگر اُس میں مخفی فیصلہ بھی ہوتا ہے۔اس کے متعلق ہر شخص کو عموماً تجربہ ہوگا کہ بسا اوقات ایسی درخواستیں ہوتی ہیں جن کے الفاظ تو درخواست کے ہوتے ہیں مگر مخفی طور پر اُن میں جبر پایا جاتا ہے کہ ہم یوں کرنے دیں گے اور یوں نہیں۔