خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء) — Page 185
خطابات شوری جلد اوّل ۱۸۵ مجلس مشاورت ۱۹۲۶ء امیر مقرر نہیں ہیں اور جہاں ہیں بھی وہاں وہ ہر بات کے ذمہ دار نہیں ہو سکتے لیکن اگر ہر محلہ میں پہنچ ہو تو یہ دیکھے کہ کوئی فساد تو نہیں؟ اور اگر ہو تو ان لوگوں کو مجبور کرے کہ اس کا فیصلہ کراؤ۔فیصلہ کے لئے قاضی مقرر ہوتے ہیں۔مگر وہ لوگوں کے گھروں پر جا کر نہیں کہا کرتے کہ ہم سے اپنے جھگڑوں کا فیصلہ کرالو۔یہ پہنچ کا کام ہے کہ جن میں جھگڑا ہو اُن کو قاضی کے پاس لے جائے۔یا اگر معمولی بات ہو تو خود سمجھائے اور فیصلہ کر نے کی کوشش کرے پس پنچائیت کا یہ کام ہو گا کہ نا اتفاقی کو دور کرے اور اگر نہ دور کر سکے تو قاضی کے پاس جانے کے لئے اُن کو مجبور کرے تا کوئی زمانہ ایسا نہ آئے کہ کوئی جھگڑا درمیان میں ہی لٹک رہا ہو۔اگر مقامی طور پر فیصلہ نہ ہو تو مرکز میں اطلاع دیں کہ ہم نے یہ کوشش کی تھی مگر فیصلہ نہیں ہوا اب آپ فیصلہ کریں۔یہ اطلاع جلد سے جلد ہونی چاہئے۔پس پنچائیتیں نہ محکمہ قضا کے خلاف ہیں نہ امارت کے خلاف بلکہ وہ انکے درمیان آلہ ہیں۔تاجروں اور اہل حرفہ کی انجمن چوتھا سوال یہ ہے کہ احمدی شجار واہل حرفہ کے باہمی تعارف کے لئے ایک انجمن بنائی جائے۔ہماری جماعت میں بعض اہل حرفہ لوگ ہیں مگر ان کی تجارت کا دوسرے احمدیوں کو پتہ نہیں اس لئے احمدی وہی چیزیں جو اپنے اس بھائی سے خرید سکتے ہیں، دوسروں سے خریدتے ہیں۔یہ بھی ضروری امر ہے، اس پر بھی غور ہونا چاہئے۔بہشتی مقبرہ کے متعلق یہ سوال ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے رسالہ الوصیت کے ماتحت کس قدر آمد یا جائداد والا شخص وصیت کر سکتا ہے : حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسّلام نے وصایا کے متعلق لکھا ہے۔اسوقت کے امتحان سے بھی اعلیٰ درجہ کے مخلص جنہوں نے در حقیقت دین کو دنیا پر مقدم کیا ہے دوسرے لوگوں سے ممتاز ہو جائیں گے اور ثابت ہو جاویگا کہ بیعت کا اقرار انہوں نے سچا کر کے دکھلا دیا ہے اور اپنا صدق ظاہر کر دیا ہے“۔مگر میں نے غور کیا ہے موجودہ صورت میں منشاء وصیت پورا نہیں ہورہا۔مثلاً عورتیں اس قسم کی وصیت کرتی ہیں کہ میری دس (۱۰) روپے کی بالیاں ہیں اس کا دسواں حصہ ایک روپیہ میں وصیت میں دیتی ہوں۔یہ کوئی ایسی قربانی نہیں ہے کہ جسے آئندہ نسلیں یاد