خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء) — Page 184
خطابات شوری جلد اوّل جاری رکھا جائے؟ ۱۸۴ مجلس مشاورت ۱۹۲۶ء پس ماندگان کی امداد نظارت امور عامہ کی طرف سے یہ سوال ہے کہ چونکہ اس وقت احمدی جماعت کے پس ماندگان کی امداد کا کوئی انتظام نہیں اس لئے ضروری ہے کہ ایک انجمن بنائی جائے جس کی غرض یہ ہو کہ نادار پس ماندگان کو ان کے سر پرستوں کی وفات پر خراب و خستہ ہونے سے بچایا جائے۔اور ان کو تعلیم و تربیت کے لئے کوئی ایسا سرمایہ ہم پہنچ سکے جو ایسے نادار پس ماندگان کو ضائع ہونے سے محفوظ رکھنے کے لئے مُمد ہو سکے۔اس وقت یہ حالت ہے کہ جب کوئی ایسا شخص فوت ہو جاتا ہے جس پر خاندان کے گزارہ کا انحصار ہوتا ہے تو پس ماندگان کو بہت مشکلات کا سامنا ہوتا ہے۔وہ یا تو لوٹ پوٹ کر کسی طرح گزارہ کرتے ہیں یا جن کو جماعت میں کسی لحاظ سے اہمیت حاصل ہوتی ہے اُن کے پس ماندگان کو وظیفے دیئے جاتے ہیں، اس کے سوا اور کوئی انتظام نہیں ہے۔بعض لوگ اس کے لئے تیار ہیں کہ اس غرض کے لئے ماہوار کچھ چندہ دیتے رہیں۔اگر اس بارے میں کوئی معقول انتظام ہو جائے تو اس کے متعلق سکیم پیش ہوگی کہ ایک ایسی انجمن بنائی جائے جو نادار پس ماندگان کو بچانے کا انتظام کرے۔اس کے لئے کچھ قواعد بنائے گئے ہیں ، ان پر سب کمیٹی غور کرے۔قرضہ کا انتظام ایک اور سوال امور عامہ کی طرف سے یہ ہے کہ احمدیوں کو بغیر سو دقرض دینے اور سود سے بچانے کا انتظام کیا جائے۔اب دقت یہ ہے کہ جماعت کو ہم روکتے ہیں کہ سُود پر قرض نہ لو۔مگر کہیں سے بغیر سُود کے ملتا بھی نہیں اس لئے بسا اوقات سودی قرضہ لینے کے بعض لوگ مرتکب ہو جاتے ہیں۔یا پھر ان کے ضروری کاموں میں نقصان ہو جاتا ہے جس کا بوجھ اُن کے دل پر پڑتا ہے اور جب ایمان مضبوط نہ ہو تو اس کا اثر دین پر بھی پڑتا ہے۔اس لئے کوئی ایسی صورت نکالی جائے کہ بغیر سود دینے کے حاجتمندوں کو قرضہ مل سکے۔اس کے لئے رجسٹر ڈ انجمن یا جو صورت مناسب ہو اُس پر غور کیا جائے۔پنچائیتیں تیسرا سوال پنچائتیں قائم کر چکے متعلق ہے۔میں نے ایک خطبہ جمعہ میں اعلان کیا تھا جس کے متعلق لوگوں کو غلطی لگی ہے۔میرا مطلب یہ تھا کہ ایسے لوگ ہوں جو خیال رکھیں کہ کوئی ایسے لوگ تو نہیں ہیں جن میں تفرقہ اور لڑائی جھگڑا ہو۔ہر جگہ