خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء) — Page 183
خطابات شوری جلد اوّل ۱۸۳ مجلس مشاورت ۱۹۲۶ء سنبھالے نہ جائیں وہ اُڑائے جا سکتے ہیں مگر پھر اس قسم کے مطالبات نہ ہوں جو یہ صیغے پورے کرتے ہیں۔مثلاً مدرسہ احمدیہ اُڑا دیں جس پر بائیس ہزار کے قریب سالانہ خرچ ہوتا ہے مگر پھر کوئی مبلغ نہیں مانگنا چاہئے۔یا ہائی سکول کو اڑا دو لیکن اس کے بعد یہ شکایت نہ ہونی چاہئے کہ جماعت کے بچوں کی اخلاقی حالت درست رکھنے کا کوئی انتظام نہیں ہے۔یا تبلیغ کا صیغہ اُڑا دو مگر پھر یہ نہ کہنا کہ ہمارے ہاں واعظ آئیں اور آکر تبلیغ کریں۔یا تعلیم و تربیت کے صیغہ کو اڑا دو تو پھر تعلیم و تربیت کے متعلق کوئی مطالبہ نہ ہونا چاہئے۔اسی طرح امور عامہ کو اُڑا دو مگر پھر یہ شکایت نہ کرنا کہ حکام کی طرف سے جو مشکلات پیش آ رہی ہیں یا رشتہ ناطوں کے متعلق جو دقتیں ہیں، ان کا انتظام کیا جائے۔اس قسم کی ضروریات کے متعلق پھر مرکز کو تکلیف نہ دینا۔لیکن اگر ان صیغوں کو نہ اُڑایا جا سکتا ہو تو جو کمیٹی بجٹ کے متعلق غور کرنے کے لئے بیٹھے وہ ایسی ذمہ دار ہونی چاہئے جو غور کرنے کی اہل ہو اور بجٹ کے متعلق سوچ سمجھ کر رائے دے کیونکہ جو بات طے ہوگی اُس کی ذمہ داری اُس پر ہوگی اور ان لوگوں کا کام ہوگا کہ اس بجٹ کو پورا کریں۔اور اگر یہ لوگ بعض محکموں کو اُڑا کر آمدنی کے اندر اخراجات کو لانا چاہیں تو پھر ان محکموں سے تعلق رکھنے والے جو مطالبات جماعت کی طرف سے آئیں گے وہ ان کے پاس بھیجے جائیں گے کہ پورے کریں۔پس اس معاملہ پر نہایت غور وفکر سے کام لیا جائے اور پیش آمدہ مشکلات کو حل کیا جائے۔میں اپنے کاموں کو اخراجات کی تشویش اور فکر میں ضائع نہیں کرنا چاہتا۔جلسوں کا خرچ دعوۃ و تبلیغ کا ایک سوال جو چھوٹا سا ہے ایجنڈا میں نہیں آیا یہ ہے کہ گزشتہ سال کی مجلس مشاورت میں طے ہوا تھا کہ جماعتیں جلسوں کا خرچ دیا کریں۔یہ شوریٰ کی سب کمیٹی نے تجویز کی تھی اور پھر شوری میں اس پر اتفاق ہوا تھا اس کے بعد میں نے اس کی منظوری دی تھی۔مگر ۱۲، ۱۵ جماعتوں کی طرف سے شکایت آئی ہے کہ مبلغوں کی آمد و رفت کا خرچ جب جلسے کرانے والی جماعتیں دیتی ہیں تو پھر مرکز میں جو روپیہ آتا ہے وہ کہاں جاتا ہے حالانکہ خرچ دینے کا فیصلہ خود انہی لوگوں نے کیا تھا۔چونکہ اس امر کا تعلق عوام سے ہے اور اس کا بُرا اثر پڑ رہا ہے، چندہ میں سستی ہوگئی ہے اور خاص کر زمینداروں میں اس لئے اس پر بھی غور کر لیا جائے کہ کیا اس طریق کو مٹا دیا جائے یا