خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 182 of 671

خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء) — Page 182

خطابات شوری جلد اوّل ۱۸۲ مجلس مشاورت ۱۹۲۶ء دیکھو اگر کسی کی بیوی یا بچہ بیمار ہو تو وہ ضرور کہیں سے اُدھار لے کر بھی ان کی دوائی کا انتظام کرے گا۔میں ایسے شخص کو چندہ سے آزاد کر دونگا جو یہ کہے کہ میں خود یا میری بیوی بچے اگر بیمار ہوں اور میرے پاس کچھ نہ ہو تو میں ان کا علاج نہ کراؤ نگا۔ایسے شخص کو عام چندہ بھی معاف کر دیا جائے گا۔لیکن اگر کوئی شخص ایسا نہیں تو جو شخص واقعہ میں اس جماعت کو خدا کی جماعت سمجھتا ہے وہ اگر کہے کہ مجھ پر بہت بوجھ ہے میں اس کی مدد میں حصہ نہیں لے سکتا تو کیوں کر اس کی بات درست تسلیم کی جاسکتی ہے۔دیکھو ہمارے بوجھ ابھی اُس حد تک نہیں پہنچے جو ہم سے پہلی جماعتوں کے بوجھ تھے۔ان کی قربانیاں ہمارے مقابلہ میں بہت زیادہ تھیں۔اُنہوں نے ایک دم اپنے مال اپنے وطن اور اپنی جائدادیں چھوڑ دیں۔حضرت مسیح کے حواریوں کو فقراء کہتے ہیں۔کیونکہ انہوں نے دین کی اشاعت میں اپنا سب کچھ خرچ کر دیا تھا۔تم لوگوں کو پہلوں کی قربانیوں کو مد نظر رکھنا چاہئے۔اگر تم انہی انعامات کے وارث بننا چاہتے ہو جو پہلوں کو ملے تو ان کی طرح قربانیاں بھی کرو۔آج اس مجلس میں جو فیصلہ ہو اُس پر پختگی سے عمل کر کے دکھاؤ۔بجٹ کے بارے میں سب کمیٹی غور کر کے اگر کوئی رقم زائد قرار دے یا کوئی محکمہ زائد بتائے تو میں اُس کو اُڑانے کے لئے تیار ہوں۔مگر جس بجٹ کے پاس کرنے کی آپ لوگ رائے دیں اُس کا پورا کرنا آپ لوگوں کے ذمہ ہوگا۔یہ ہو نہیں سکتا کہ ایک طرف تو آپ لوگ یہ کہیں کہ جماعت کے لئے یہ کام بھی ضروری ہے اور وہ کام بھی ضروری ہے اور دوسری طرف کم از کم جو بجٹ مقرر کیا جائے اُسے بھی پورا کرنے کے لئے تیار نہ ہوں۔اس کی مثال تو اُس عورت کی ہوگی جس نے مجھے شکایت لکھی تھی کہ مجھے خاوند صرف دس روپے ماہوار خرچ کے لئے دیتا ہے اور پھر کہتا ہے میرا اور اپنا خرچ اسی میں پورا کر۔ایک وقت کھانے پر کباب ضرور ہوں اور صبح کے ناشتہ پر پراٹھے ہوں۔جب اس رقم میں اس طرح نہیں ہوسکتا تو مارتا ہے۔آپ کوئی آدمی بھیج کر معلوم کریں اس کی مار کے داغ میرے جسم پر موجود ہیں۔اب آپ بتائیں میں کیا کروں؟ پس اگر تمام صیغے بھی اسی طرح رہیں اور تمام کام جاری رہیں تو خرچ کے بغیر کس طرح جاری رہ سکتے ہیں۔اور یوں بند کرنے کو تو سارے صیغے بند کئے جا سکتے ہیں مگر پھر اس کی مثال اُس شخص کی سی ہوگی جو اپنے بازو پر شیر کی تصویر گدوانے لگا تھا۔بہر حال جو صیغے