خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 163 of 671

خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء) — Page 163

خطابات شوریٰ جلد اوّل ۱۶۳ مشاورت ۱۹۲۵ء تیار رہنا چاہئے کہ اگر ہمیں اسلام کے لئے کھدر پہننا پڑے تو عورتیں اسے تیار کریں اور مرد پہنیں اور خالی روٹی یا معمولی روٹی کھا کر اُس وقت تک اس طرح گزارہ کریں جب تک کہ کافی جماعت نہ ہو جائے۔قربانیوں کیلئے تیار رہو اس وقت ہمارے پاس اسے مبلغ نہیں کر تبلیغ کو پورے زور کے ساتھ جاری کر سکیں۔اس کے لئے ہمیں خرچ بڑھانا پڑے گا اور یہ خرچ اسی طرح مہیا ہو سکتا ہے کہ ہم آئندہ کے لئے اپنا سب کچھ دے دینے کے لئے تیار رہیں۔اگر لوگ نام کی خلافت اور سوراجیہ کے لئے قربانیاں کر سکتے ہیں تو ہم خدا کے دین کی اشاعت کے لئے کیوں ان سے بڑھ کر نہیں کر سکتے۔اگر چہ ابھی اس کی ضرورت نہیں مگر ہماری جماعت کی عورتوں اور مردوں کو تیار رہنا چاہئے کہ اگر ضرورت پڑے تو ادنیٰ سے ادنی کپڑا پہنیں اور معمولی سے معمولی کھانا کھائیں، باقی سب کچھ خدا کے لئے خرچ کر دیں اور اس قسم کے ایک یا دو آدمی نہیں ہونے چاہئے بلکہ ساری کی ساری جماعت ہی ایسی ہو۔اگر تبلیغ کے متعلق یہی حالت رہی جو اس وقت ہے تو میں اعلان کر دوں گا کہ کسی احمدی کی کوئی اپنی جائداد نہ ہو سب کچھ ایک جگہ جمع کر دیا جائے اور سب کو معمولی کھانا اور کپڑا دیا جائے۔اور کسی کام کے لئے کوئی کچھ تنخواہ نہ لے۔مجھے امید ہے ہماری جماعت جس نے آج تک بڑی بڑی مالی اور جانی قربانیاں کی ہیں اس میں سے کوئی ضرورت کے وقت پیچھے نہ رہے گا۔خاتمہ اور دعا اب میں اس جلسہ کو ختم کرتا ہوں اور دُعا کرتا ہوں کہ خدا تعالیٰ ہماری جماعت کو توفیق دے کہ دینِ حق کی اشاعت کے لئے اپنا وقت ، اپنا مال اور اپنی جان دے سکے۔چونکہ اب وقت بہت تنگ ہے اس لئے دُعا نہیں کی جاسکتی مگر کانفرنس کے دوران میں دعا ہی کرتا رہا ہوں۔میں سوال کرنے والوں سے ناراض نہیں میں اس وقت یہ بھی کہہ دینا چاہتا ہوں کہ بعض لوگوں کو غلط فہمی ہوئی