خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء) — Page 162
خطابات شوری جلد اوّل ۱۶۲ مشاورت ۱۹۲۵ء قلیل جماعتیں ہیں لیکن بہت بوجھ اُٹھانے کے لئے تیار ہیں۔اس طرح جماعت کی ترقی بھی ہو سکتی ہے اور مالی لحاظ سے بھی فائدہ پہنچ سکتا ہے۔اب بعض باتیں میں اس بارے میں بیان کرتا ہوں کہ مالی مشکلات کس طرح دور ہو سکتی ہے۔چندہ عام میں اضافہ کی ضرورت آپ لوگوں کو یہ تو معلوم ہو گیا ہے کہ کس طرح بجٹ ہر سال بڑھ رہا ہے۔اس کے لئے ایک تو یہ ضروری ہے کہ چندہ عام کو بڑھایا جائے ورنہ اگر یہ چندہ نہ بڑھایا گیا تو ہر سال یا ہر دوسرے سال ایک ایک ماہ کی آمدنی چندہ خاص کے طور پر لینے کی ضرورت پیش آتی رہے گی اور اس کے بغیر خرچ نہیں چل سکے گا۔محصلین چندہ دوسری تجویز یہ ہے کہ محصلین چندہ کو زیادہ کیا جائے تاکہ زیادہ با قاعدگی اور انتظام کے ساتھ چندہ وصول ہو سکے۔بیرونی مشنوں کے اخراجات اسی طرح بیرونی معلوں کے ذمہ یہ بات لگائی جائے کہ چند سال کے اندر اندر اپنا خرچ آپ برداشت کریں۔شام کے مشن کو میں نے اس قابل بننے کے لئے ایک سال کا موقع دیا ہے۔اسی طرح افریقہ والوں کو لکھا گیا ہے کہ اس عرصہ میں اپنے اخراجات آپ پورے کرنے ہوں گے۔اسی طرح ہماری جماعت کے لوگوں کو صنعت و حرفت کی طرف توجہ کرنی صنعت و حرفت چاہئے۔اس امر کی سخت ضرورت ہے کہ ایک خاص سکیم بے کاروں کے انتظام کے متعلق تیار کی جائے۔اگر جماعت اس طرف توجہ کرے تو بہت کچھ کام ہوسکتا ہے اور بے کاروں کے نوکر ہو جانے یا کاروبار کرنے کی صورت میں سلسلہ کو کئی ہزار کی مزید آمدنی ہو سکتی ہے۔ایک خاص سکیم میں اس کے لئے بھی سکیم تیار کر رہا ہوں کہ کس طرح سلسلہ کے لئے ہم زیادہ سے زیادہ روپیہ خرچ کرنے کے لئے جمع کر سکتے ہیں مگر فی الحال اظہار نہیں کرنا چاہتا۔میں تو اپنی جماعت سے بہت سے مردوں اور عورتوں میں یہ احساس پیدا کرنا چاہتا ہوں کہ اگر ہندو اور مسلمان سوراج کے لئے کھدر پہن سکتے ہیں تو ہماری جماعت کو