خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 140 of 671

خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء) — Page 140

خطابات شوری جلد اول ہیں وہ خود غرضیوں کا نتیجہ ہوتے ہیں۔ ۱۴۰ مجلس مشاورت ۱۹۲۵ء بد عمل لوگ دین کے خیر خواہ نہیں ہو سکتے پھر میں یہ بات تسلیم کرنے کے لئے تیار نہیں ہوں اور نہ کو اور نہ کوئی اور عقل سلیم تسلیم کرنے کے لئے تیار ہو سکتی ہے کہ دین کے سب سے بڑے خیر خواہ وہ لوگ ہو سکتے ہیں جو سب سے زیادہ بد عمل اور احکام اسلامی کی پابندی میں سب سے زیادہ سُست ہوں۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام مخالفین کے سامنے یہ بات پیش کیا کرتے تھے کہ کیا ہم جو دین کی خدمت میں لگے ہوئے ہیں کافر ہیں اور یہ مولوی جو دین کا کوئی کام نہیں کر رہے، مسلمان ہیں۔ اسی طرح میں کہتا ہوں اگر وہ لوگ جو لین دین کے معاملات میں کچے ہیں، جو نمازوں میں سست ہیں، جن میں پانچوں عیب شرعی موجود ہیں، وہ احمدیت کے متعلق سب سے زیادہ زیادہ غیرت اور محبت رکھتے ہیں اس با اس بات کو تسلیم کرنے کے نے کے لئے میں تو تیار نہیں ہوں ۔ ورنہ خدا تعالیٰ پر الزام آئے گا کہ اس نے بچے اور پکے مومنوں کو تو غیرت دینی سے محروم کر دیا اور جو پورے مومن نہیں اُنہیں یہ شرف عطا کیا۔ لیکن میں نے جس خدا کو سُنا نہیں بلکہ دیکھا ہے، اسے ایسا نہیں پایا۔ در حقیقت یہی وہ لوگ ہیں جو پہلے فسادی تھے اور اب فساد ہوگا تو اسی قماش کے لوگوں سے ۔ جو نصیحت کی جائے اُسے یاد رکھو میں نے ۱۹۱۵ء میں ایک تقریر کی تھی جس میں بتایا تھا کہ قادیان میں منافق بھی رہتے ہیں، ان سے ہوشیار رہنا چاہئے مگر افسوس کہ میری اس نصیحت سے فائدہ نہ اُٹھایا گیا۔ میں کہتا ہوں اگر جو کچھ میں کہوں اُسے یاد نہیں رکھنا تو کیا فائدہ ہے میرے بولنے کا۔ میرا حلق خراب ہے اور تقریر کرنے سے بخار ہو جاتا ہے ۔ ایسی حالت میں میں تقریریں کرتا ہوں لیکن اگر ان سے فائدہ نہیں اُٹھایا جاتا تو میرے لئے خاموشی بہتر ہے۔ میرے بولنے کی یہی غرض ہوتی ہے اور اسی لئے میں تکلیف اُٹھاتا ہوں کہ آپ لوگ سُنیں اور فائدہ اُٹھا ئیں ۔ اگر میں کچھ غلط کہتا ہوں تو مجھے بتائیں اور اگر صحیح کہتا ہوں تو اُس پر عمل کریں لیکن کیا بعض دوستوں نے میری اس نصیحت پر عمل کیا ہے کہ منافقوں سے ہوشیار رہنا چاہئے؟ میں نے کئی خطبوں میں بتایا ہے کہ جب کوئی شخص سلسلہ کے خلاف کوئی بات کہتا ہے اور کوئی نقص یا بُرائی بتا تا ہے تو