خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 141 of 671

خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء) — Page 141

خطابات شوری جلد اوّل ۱۴۱ مشاورت ۱۹۲۵ء اس بات کو تحقیقات کے لئے میرے پاس لانا چاہئے۔مالی معاملات کے متعلق اعتراض سب سے بڑا اعتراض روپیہ کے متعلق کیا گیا ہے کہ وہ اس اس طرح خرچ کیا گیا ہے۔قرآن کریم میں آتا ہے۔ومِنْهُم مِّن يَلْمِزُكَ في الصدقت ١٣ کہ رسول کریم صلی الله علیہ وسلم پر بھی مال کے متعلق اعتراض کئے جاتے تھے۔اب اگر محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر بھی اعتراض کئے گئے تو ہم کہاں بچ سکتے ہیں۔اگر کہا جائے اعتراض تو نہیں کیا ہم تو پوچھتے ہیں۔تو میں کہتا ہوں اس قسم کے سوال کرنا ہی بتاتا ہے کہ تم نے ان باتوں کو اہمیت دی ہے۔اب ان کی صرف تصدیق کرنا باقی تھی جس کے لئے سوال کیا۔پس اس قسم کا سوال کرنا ہی دلالت کرتا ہے کہ اس بات کو درست تسلیم کیا گیا ہے۔میں پوچھتا ہوں کیا تم میں سے کوئی یہ پسند کرے گا کہ دس ہیں آدمیوں کے سامنے اُس سے کہا جائے ، سُنا ہے آپ نے فلاں شخص کا مال اُٹھایا ہے؟ اُس وقت کیا وہ یہی کہے گا کہ سائل نے سوال کیا ہے جس کا مجھے جواب دینا چاہئے۔نہیں میں تو ایسا نہ کروں مگر کوئی اور یہی کرے گا کہ پوچھنے والے کے منہ پر تھپڑ مارے گا۔دیکھو شریعت نے یہ قرار دیا ہے کہ جس پر زنا کا الزام لگایا جائے اُس کے متعلق چار گواہ لاؤ، ورنہ الزام لگانے والے کو کوڑے لگیں گے۔اب اگر کوئی کسی سے پوچھے کیا آپ نے زنا کیا ہے؟ تو اُس کا یہ سوال نیک نیتی سے ہوگا ؟ اس کا مطلب یہی ہو گا کہ اگر پورا نہیں تو ایک حد تک الزام لگایا گیا ہے۔نیک ظنی کو ترک نہ کیا جائے میں کہتا ہوں سوال کرنے سے پہلے ایک اور درجہ ہے جو خدا تعالیٰ نے بیان فرمایا ہے اور جو یہ ہے۔تو لو إذ سَمِعْتُمُوهُ ظَنّ المُؤْمِنُونَ وَالمُؤمِنتُ بِأَنْفُسِهِمْ خَيْرًا وَقَالُوا هذا افك تبين " اگر کوئی بُری بات سنی بھی جائے تو نیک ظنی کو ترک نہ کیا جائے کیونکہ اگر وہ بُرائی ثابت ہو جائے تو نیک ظنی ترک کرنے میں کوئی بُرائی نہیں۔لیکن اگر ثابت نہ ہو تو انسان دُہرا مجرم بنتا ہے۔ایک تو یہ کہ اُس نے بدظنی کی اور دوسرے یہ کہ ایک بے گناہ پر الزام لگا کر اُس کا دل دُکھانے کا جرم کیا۔