خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 99 of 671

خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء) — Page 99

خطابات شوری جلد اوّل ۹۹ مجلس مشاورت ۱۹۲۴ء ނ مرکز میں کالج کی ضرورت ہے مگر معقول عرصہ تک ہم اس قابل نہیں ہو سکتے کہ کالج بناسکیں اور یہ وہ بات ہے کہ کوئی مذہب قائم نہیں رہ سکتا جو اپنے افراد کی علمی ترقی کو روک دے۔یہ قانون نیچر کے خلاف ہے۔اس بات کو مد نظر رکھتے ہوئے یہ دیکھنا ہے کہ جب طلباء کی ضرورتوں کو ہم پورا نہیں کر سکتے تو دو صورتیں ہیں یا با ہر تعلیم حاصل کریں یا نہ کریں۔اگر کہیں نہ کریں تو اس طرح ہم کامیاب نہیں ہو سکتے۔یہ خدا کے فعل اور قول کو ٹکرانا ہے۔اس میں کامیابی نہیں ہو سکتی۔اب یہ سوال ہے کہ آیا با ہر تعلیم حاصل کرنے میں جو ایسے نقائص ہیں جن کو روکا جا سکتا ہے اُن کو روکنے کا کوئی انتظام کریں یا نہیں؟ حالت یہ ہے کہ یہاں لڑکے پڑھنے کے لئے گئے ہیں ان کا احمدیت سے تعلق نہیں رہا۔بعض لڑکے ہوٹل سے چلے جانے کی وجہ سے دہر یہ ہو گئے۔یا اعمال میں گر گئے۔ایسے حالات میں ان کو یہ کہنا کہ جہاں چاہیں رہیں خطرناک صورت ہے اور اس کا یہ مطلب ہے کہ ہم اپنے نوجوان طلباء کو ضائع کر دیں۔چونکہ اس طرز پر یہ معاملہ نہیں پیش کیا گیا۔اس لئے آراء ادھر چلی گئی ہیں کہ ہوٹل نہ بنایا جائے۔ورنہ اس کے خلاف رائیں دی جاتیں۔میرا تجربہ یہ ہے کہ ہوٹل کے طلباء کی حالت نسبتاً دوسروں سے بہت بہتر ہے۔اس لئے اگر کچھ روپیہ خرچ کر کے ہم سب طلباء کو ہوٹل میں اکٹھا کر سکیں تو بہت بہتر ہے اور اس سے کہ ہم پانچ کو بہت مخلص احمدی بنا دیں اور ۴۵ دوسروں کو گر جانے دیں یہ بہت اچھا ہے کہ ۵ کو احمدی جماعت میں قائم رکھیں اور ان کا تعلق احمدیت سے جُڑا ر ہے۔یہاں مرکز میں ہم سب طلباء کی پڑھائی کا انتظام نہیں کر سکتے کیونکہ کالج ایسا نہیں بن سکتا کہ سب طلباء کی ضروریات پوری کر سکیں اور نہ اتنا خرچ برداشت کر سکتے ہیں۔ابتدا کرنے کے لئے کم از کم دو ہزار ماہوار کا خرچ ہوگا اور یہ رقم موجودہ چندوں کے لحاظ سے بہت بڑی ہے پھر لڑکے جمع کرنے ہوں گے اور لڑکوں کو وظائف دینے ہوں گے۔یہ خرچ ہزار بارہ سو روپیہ ماہوار کا ہوگا اس کے علاوہ ہوٹل کی ضرورت پھر بھی باقی رہے گی اور چونکہ ہر سال لڑکے بڑھ رہے ہیں اس لئے اگر ہوٹل کا انتظام کافی نہ ہوا تو ہر سال لڑکے زیادہ ہوٹل سے باہر رہنے پر مجبور ہوں گے اور دوسرے کالجوں کے ہوسٹلوں میں ہمارے لڑکوں کو نماز وغیرہ کی بہت تکالیف ہوتی ہیں۔پس کالج بن جانے بلکہ یونیورسٹی قائم ہو