خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء) — Page 100
خطابات شوریٰ جلد اوّل مشاورت ۱۹۲۴ء جانے سے بھی ہوسٹل کی ضرورت باطل نہیں ہوگی۔اور میں تو چاہتا ہوں کہ جہاں بھی کالج ہوں نہ صرف لا ہور بلکہ ہر جگہ ہمارے اپنے ہوٹل ہوں۔اس لئے میں اپنے آپ کو مجبور پاتا ہوں کہ کثرت رائے کے خلاف فیصلہ کروں کہ ہوٹل اپنا بنانا ضروری ہے۔اس لئے احباب پھر ان صورتوں کے متعلق رائیں دیں کہ :۔(۱)۔مکان بنوایا جائے۔اس شرط پر کہ آہستہ آہستہ خرید لیا جاوے۔کمپنی اپنی ہو یا کوئی اور۔(۲)۔کسی سے مکان بنوایا جائے اور مقررہ سال تک کرایہ پر رکھنے کا معاہدہ کرا لیا جائے۔پہلی تجویز کی تائید میں ۹۹ را ئیں تھیں اور کثرت نمایاں تھی۔حضور نے بھی اس سے فیصلہ اتفاق کیا۔اس کے بعد حضور نے فرمایا: - دو کسی کمپنی کی معرفت مکان بنوایا جاوے اور قسط وار روپیہ ادا کیا جاوے یا مکان احمد یہ کمپنی بنائے۔احمدیوں کا سرمایہ ہو اور اُن کو منافع لگا کر روپیہ قسط وار ادا کیا جائے۔۷۵ - ۸۰ ہزار سارا خرچ ہو گا۔کیا ایک سال کے اندر احمد یہ کمپنی بن کر مکان بنوا سکتی ہے ؟،،۔دوسری تجویز کی تائید میں کوئی کھڑا نہیں ہوا اور تجویز اول پاس ہوئی۔اس پر حضرت خلیفہ اسیح نے فرمایا۔لاہور کے دوست خاص کر بابوعبد الحمید صاحب ایک مہینہ تک ایسی کمپنی کو تلاش کر کے اطلاع دیں اور اسٹیمیٹ بھجوائیں۔“ تیسرا دن مجلس مشاورت کے تیسرے روز خلیفہ وقت کے گزارے کا سوال اور فیصلہ خلیفہ وقت کے گزر اوقات کے لئے رقم مقرر کرنے کے بارہ میں ایک تجویز کا ذکر کرتے ہوئے حضور نے فرمایا : - اب میں تجویز نمبر 9 کو لیتا ہوں جو خلیفہ کی ذات سے تعلق رکھتی ہے اور اس کو اپنی طرف سے پیش کرتا ہوں۔اس میں عام لوگوں سے مشورہ نہیں لیا جاتا کیونکہ ان کے لئے