خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 98 of 671

خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء) — Page 98

خطابات شوریٰ جلد اوّل ۹۸ مشاورت ۱۹۲۴ء کر دیتا ہے۔حالانکہ قرآن کا حکم فابعثوا حكما من أهْلِهِ وَحَكَمًا مِّنْ أَهْلِهَا ! کہ طرفین کی طرف سے حج مقرر ہونے چاہئیں جو فیصلہ کریں۔اگر کوئی شخص ایسا نہیں کرتا تو وہ اسلام کو بدنام کرتا ہے۔یورپ کا بڑا اعتراض یہی ہے کہ اسلام میں عورتوں پر ظلم کیا جاتا ہے جو لوگ یہاں آتے ہیں اُن کو ہم سمجھاتے ہیں مگر وہ کہتے ہیں عمل دکھاؤ۔اگر میں اپنی مثال پیش کروں تو میرے متعلق کہتے ہیں کہ آپ نے تو کرنا ہی ہوا جماعت کا عمل دکھاؤ۔پس عورتوں سے عدل نہ کرنے والے مُجرم ہیں اور ان کے نکاحوں میں شامل ہونے والے بھی مجرم کیونکہ وہ اسلام کو بدنام کرتے ہیں۔کیا جماعت ان سے نفرت اور قطع تعلق کرے گی ؟ کیا میں امید رکھوں کہ آپ لوگ آئندہ اس طرح کریں گے؟“ آوازیں۔انشاء اللہ ایسا ہی کریں گے۔فرمایا : - ایسے شخصوں کی یہاں اطلاع دی جاوے ہم فیصلہ کریں گے پھر ان سے قطع تعلق کیا جاوے۔“ تجویز بابت احمد یہ ہوٹل لاہور میں احمد یہ ہوٹل کی بابت تجویز کہ اپنی عمارت بنوالی جاوے یا فی الحال بوجہ رقم میسر نہ ہونے کرایہ پر ہی بلڈنگ لی جاوے، پر نمائندگان کی بحث کے بعد حضور نے حسب ذیل امور پر آراء طلب فرمائیں۔(۱)۔ہوٹل کو موجودہ حالت گزارہ میں رکھا جائے۔مکان اپنا بنانے کا خرچ نہیں کرنا چاہئے۔جتنے لڑکے رہ سکتے ہیں رہیں باقی لڑکے علیحدہ رہیں۔(۲)۔ہمیں ہوٹل کو وسیع کرنا چاہئے تا زیادہ لڑکے وہاں رہ سکیں اور ہوٹل کا اثر زیادہ ہو اور اس کے لئے مکان بنوانے کی کوئی صورت کی جاوے۔“ پہلی تجویز کی تائید میں ۶۸ را ئیں ہوئیں اور دوسری تجویز کی تائید میں ۵۷۔اس کے بعد حضرت خلیفہ اسیح نے فرمایا : - کثرت رائے کا رو کثرت ان احباب کی ہے جو کہتے ہیں کہ ہوٹل بنانے کی ضرورت نہیں۔میں اپنے تجربہ سے اس رائے پر تھا اور ہوں کہ