خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 96 of 671

خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء) — Page 96

خطابات شوری جلد اوّل ۹۶ مجلس مشاورت ۱۹۲۴ء جواب پوچھا نیز اخلاقی مجرموں کی اصلاح اور زکوۃ کی وصولی کے متعلق ناظر صاحب اعلیٰ کے سوالات کی بابت جماعتوں کا جائزہ لیا۔اس کے بعد فرمایا:- اگر چہ پچھلے سال کی مجلس مشاورت کے فیصلوں پر عمل اُس طرح نہیں کیا گیا جس طرح ہونا چاہئے تھا لیکن اس وقت سوال کرنے سے یہ امید کی جاتی ہے کہ جماعتیں آئندہ پوری کوشش کریں گی۔یہاں جو بھی فیصلے کئے جاتے ہیں اور تعمیل ذمہ لگائی جاتی ہے۔ان کی تعمیل کی ذمہ داری جماعتوں اور ناظروں پر ہوتی ہے۔کل ناظروں پر سوال ہوئے تھے۔آج جماعتوں پر کئے گئے ہیں وہ یہی کہتے رہے کہ کوئی کارروائی نہیں کی اور جماعتوں نے بھی یہی ظاہر کیا ہے۔آئندہ ایسا نہیں ہونا چاہئے۔ہمارے مشورہ کی غرض صرف روح پیدا کرنا نہیں بلکہ کام کرنا ہے۔امید ہے جماعتیں آئند ہ تعمیل کر کے آئیں گی۔آئندہ سال کے لئے عورتوں کا کورس اگلے سال کے لئے یہی تجویز رکھی جاتی ہے کہ ہر جماعت اس امر کی پابند ہو کہ اس کی تمام عورتوں کو نماز با قاعدہ آتی ہو یعنی وضو کرنا، نماز کی حرکات ، نماز کے الفاظ پورے طور پر آتے ہوں۔ابھی ہم ترجمہ کی شرط نہیں لگاتے۔ہاں جو پڑھا سکیں تو نور علی نور ہے مگر نماز اور اس کے قواعد، کلمہ اور اس کے معنے ضرور ہر احمدی عورت کو سکھا دیں۔لجنہ اماءاللہ کا خوش کن کام یہاں قادیان میں اس کے متعلق عورتوں کے انتظام کے ماتحت جو کام ہوا ہے وہ بہت خوش کن ہے۔لجنہ سے تعلیم حاصل کر کے ۷۰ ۸۰ کے قریب عورتیں ایسی ہیں جو قرآن کے ۶ یا ے پارے تک اور فقہ اور حدیث کی کتابیں پڑھ رہی ہیں اور ان کا ایسا سٹینڈرڈ ہے کہ باہر کے مرد بھی اُسے پورا نہیں کر سکتے۔“ اخلاقی جرائم دور کرنے چاہئیں اس کے بعد حضور نے اخلاقی جرائم دور کرنے کے سوال کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا :- باقی رہا اخلاق کا سوال اس کے متعلق کم توجہ کی گئی ہے۔جرائم اور گناہ دو قسم کے ہوتے ہیں ایک پوشیدہ ان کے لئے کچھ مقرر نہیں کیا گیا تھا۔ان کے لئے تو وعظ ونصیحت ہی