خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء) — Page 97
خطابات شوری جلد اوّل ۹۷ مجلس مشاورت ۱۹۲۴ء کرنا ہوتا ہے۔ایک وہ جرائم اور گناہ ہیں جن سے سلسلہ پر الزام آتا ہے اور مخالفین ان کی وجہ سے اعتراض کرتے ہیں۔مثلاً عیسائی ایک سے زائد بیویاں کرنے پر اعتراض کرتے ہیں اور میرے نزدیک لاکھوں نہیں کروڑوں ایسے ہیں جو اسلام کو اس لئے قبول نہیں کرتے کہ وہ کہتے ہیں کہ اسلام ایک سے زائد بیویوں کی اجازت دیتا ہے۔ادھر مسلمان دو بیویاں کر کے عدل نہیں کرتے اور دوسرے مسلمان اُن سے گرفت نہیں کرتے اور نفرت کا اظہار نہیں کرتے۔اسی طرح ہماری جماعت کے متعلق ہے۔اگر کوئی احمدی کہلا کر نماز نہیں پڑھتا یا سو د لیتا ہے تو مخالفین اعتراض کرتے ہیں کہ اس نے احمدی بن کر کیا کیا، اس لئے ان باتوں کی طرف توجہ کرنے کی بہت ضرورت ہے۔ہماری جماعت میں بعض دو بیویوں میں عدل نہ کرنے پر مقاطعہ کرنا چاہئے ایسے نکاح ہو چکے ہیں کہ جو میرے زمانہ خلافت سے پہلے کے ہیں۔اس میں بعض مصالح کی وجہ سے میں دخل نہیں دیتا مگر جو اب دوسرا نکاح کرتا ہے وہ چونکہ اس معاہدہ سے کرتا ہے کہ عدل و انصاف کرے گا اگر وہ اس کے خلاف کرے تو اس سے مقاطعہ کرنا چاہئے کیونکہ کوئی ایک کو مُر تذ کرتا ہے کوئی دو کو مگر ایسا آدمی لاکھوں کو اسلام سے متنفر کرتا ہے اور ہماری آنکھیں دشمن کے مقابلے میں نیچی کراتا ہے۔مگر مجھے افسوس ہے کہ ایسی شادیاں اس سال بھی ہوئی ہیں اور لوگ یہ جانتے ہوئے ان میں شامل ہوئے ہیں کہ پہلی بیوی سے تعلق نہ رکھا جاوے گا۔ایسے لوگ خواہ کتنے ہی عزیز ہوں اُن سے سختی سے برتاؤ کرنا چاہئے اور اُن سے تعلق نہیں رکھنا چاہئے۔یہ نکاح جنہوں نے کئے ہیں میرے نزدیک وہ لوگ ایسے ہیں جیسے کہ مر گئے۔ہمارا ان سے کوئی تعلق نہیں ہے۔افسوس ہے کہ وہ لوگ جو مجلس مشاورت میں آتے اور یہ حکم سنتے ہیں، اُن میں سے بعض ایسی شادیوں میں شامل ہوئے بلکہ نکاح پڑھتے ہیں۔جب تک ایسے لوگوں سے بگلی نفرت کا اظہار نہ ہوگا ہماری جماعت ترقی نہیں کر سکتی۔طلاق اسی طرح طلاق ہے۔ایک آدمی ایک عورت دس پندرہ سال رکھتا ہے جب اس سے فائدہ اُٹھا لیتا ہے اور اس کی جوانی ڈھل جاتی ہے تو کوئی وجہ نہیں ہوتی جو جائز وجہ ہو کہ وہ طلاق دے دیتا ہے اور اُس وقت دیتا ہے جب وہ نکاح نہیں کر سکتی اور اس کو تباہ