خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 95 of 671

خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء) — Page 95

خطابات شوریٰ جلد اوّل ۹۵ مجلس مشاورت ۱۹۲۴ء ”ہمارے اجلاس کا وقت ۸ بجے مقرر کیا گیا تھا اور اب ۹ بج گئے ہیں مگر سارے دوست ابھی تک نہیں آئے۔میں بھی دیر سے آیا ہوں مگر اس کی وجہ کوئی ذاتی کام نہیں بلکہ ایک سب کمیٹی کے کام کی تحقیق ہو رہی تھی ، اس لئے یہ مجلس کا ہی کام ہوا۔امید ہے احباب وقت کی پابندی کی خاص عادت ڈالیں گے۔بعض ناظر بھی وقت کی پابندی کا خیال نہیں رکھتے۔کل کچھ سب کمیٹیاں مقرر کی گئی تھیں کہ جو اہم امور ہیں ان کے متعلق مشورہ کر کے پیش کریں ان سب کمیٹیوں میں سے جو پہلی کمیٹی تھی کہ آئندہ نظام کے متعلق غور کیا جائے۔اس کا کام اتنا زیادہ تھا کہ اس عرصہ میں جو اسے ملا پورا کام نہ کر سکتی تھی۔جب رات کو مجھے معلوم ہوا کہ سب امور کے متعلق کمیٹی کے لئے مشورہ کرنا مشکل ہے تو بہت سے امور میں نے اُڑا دیئے اور باقی کم باتیں رکھیں۔مگر پھر بھی ایک غلط فہمی سے ایسی بات پر جو میں نے کاٹ دی تھی زیادہ وقت صرف ہو گیا اس لئے اس کے متعلق مشورہ اسی جگہ ہو گا لیکن اس کے متعلق چونکہ علیحدہ بات کرنی ہے اس لئے ابھی پیش نہیں کروں گا بلکہ دوسری کمیٹیوں کا کام پیش کروں گا۔عورتوں کی تعلیم کے متعلق ناظر اعلیٰ کا سوال اب ناظر صاحب اعلیٰ کے سوال کا جواب پہلے لیا جاتا ہے جو عورتوں کی تعلیم کے متعلق پچھلی دفعہ فیصلہ ہوا تھا۔اس کے متعلق پچھلے سال بڑی گفتگو ہوئی تھی اور جماعت کے اکثر احباب کا خیال تھا کہ عورتوں کے لئے زیادہ کورس مقرر کرنا چاہئے اور یہ کہ یہ سکیم عمل میں آ سکتی ہے۔میں نے اُس وقت اختلاف کیا تھا اور کہا تھا کہ یہ سکیم تو ابھی مرد بھی پوری نہیں کر سکتے عورتیں کہاں اتنا بڑھ سکتی ہیں اس لئے چھوٹی سکیم رکھی تھی اور وہ یہ کہ نماز سب عورتیں جانتی ہوں، کلمہ یاد ہو اور اُس کا ترجمہ بھی۔چونکہ آپ لوگوں کا مشورہ تھا کہ سکیم زیادہ ہو اس لئے جو ر کھی تھی وہ تو ضرور پوری کی ہوگی۔جماعت کے نمائندوں میں سے جو یہاں آئے ہوئے ہیں، مہربانی فرما کر کھڑے ہو جائیں جو یقین اور وثوق کے ساتھ کہہ سکتے ہیں کہ ان کے حلقہ میں ایک بھی احمدی عورت ایسی نہیں جو نماز اور کلمہ باترجمہ نہ جانتی ہو۔“ اس پر صرف بنگالہ کی جماعت کا نمائندہ کھڑا ہوا۔اس کے بعد حضور نے ناظر صاحب اعلیٰ کے سوال کے حوالے سے نمائندگان سے