خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء) — Page 94
خطابات شوریٰ جلد اوّل ۹۴ مجلس مشاورت ۱۹۲۴ء اُس وقت کے متعلق ہے جب ہم حکمران نہ تھے۔ایک جواب یہ دیا گیا ہے کہ آپ دفتر میں جا کر دیکھیں یہ تو لڑائی ہے۔یوں کہنا چاہیے تھا کہ میں نے تحریک کی تھی مگر جواب نہیں ملا، اس کے متعلق کا غذات دفتر میں ہیں آپ چاہیں تو دیکھ سکتے ہیں۔اسی طرح ٹریکٹوں کی اشاعت کے جواب میں کہا گیا ہے کہ میں اُس وقت نہ تھا لیکن اگر چار سال بعد شیخ یعقوب علی صاحب کو یہ بات یا درہ سکتی ہے اور وہ سوال کر سکتے ہیں تو کیا اس صیغہ کے افسر کا کام نہیں ہے کہ اس کو معلوم کرے اور اس پر عمل کرائے۔سوال کرنے والوں کو ہدایت یہ تو ناظروں کے متعلق ہوا۔اب میں سوال کرنے والوں کے متعلق یہ کہنا چاہتا ہوں کہ شیخ محمد حسین صاحب نے جو طریق اختیار کیا وہ بحث کا طریق ہے۔سوال کرنے کی غرض یہ ہے کہ انفرمیشن حاصل کی جاوے اور جو جواب دیا جاتا ہے اُس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ کس حد تک وہ جواب تسلی بخش ہے، بحث شروع کر دینا مناسب نہیں۔ضروری سوالات کے متعلق یوں ہونا چاہئے کہ پہلے سے لکھ کر بھیج دیئے جائیں تا جواب کے لئے تیاری کی جاسکے۔جیسا کہ راولپنڈی کے ایک دوست نے کیا ہے۔آئندہ جو دوست سوالات کرنا چاہیں کم از کم دس پندرہ دن مجلس سے پہلے وہ ان کے متعلق نوٹس دے دیں کہ ان کے متعلق انفرمیشن بہم پہنچائی جائے۔سوال کیا جائے گا تا ان کے متعلق تیاری کر کے جواب دیا جا سکے۔“ دوسرا دن مجلس مشاورت کے دوسرے دن یعنی ۲۱ / مارچ کو تلاوتِ قرآن مجید کے بعد حضور نے کارروائی کا آغاز کرتے ہوئے فرمایا۔پیشتر اس کے کہ جلسہ کی کارروائی شروع کی جائے میں چاہتا ہوں کہ سب دوست مل کر دُعا کریں کہ خدا ہمارے کاموں میں برکت دے اور میں سمجھتا ہوں ہماری جماعت کا یہ قاعدہ ہونا چاہئے کہ ایسی مجالس جن میں اہم امور پیش ہوں کا رروائی کرنے سے قبل دُعا کر لیا کریں تا کہ خدا کی برکت نازل ہو۔“ اس کے بعد دُعا کی گئی اور دعا کے بعد حضور نے فرمایا: -