خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 93 of 671

خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء) — Page 93

خطابات شوری جلد اوّل ۹۳ مشاورت ۱۹۲۴ء ہوں جو بہت قابلِ اعتراض ہیں۔اول یہ کہ ناظر صاحب اپنی رپورٹ میں دوسرے صیغوں پر اعتراض کرتے چلے گئے ہیں۔ان صیغوں کے افسروں میں بیٹھ کر وہ اپنے حقوق پر بحث کر سکتے تھے لیکن دوسری مجلس میں جا کر ذکر کرنا جائز نہیں یہ عام رواج اور کارروائیوں کے خلاف بات ہے۔اگر یہ بجٹ پاس کرنے والی کمیٹی ہوتی تو کہا جا سکتا تھا کہ مجھے کلرک نہیں دیا گیا یا چپڑاسی نہیں دیا گیا لیکن بجٹ کے ساتھ اس مجلس کا کوئی تعلق نہیں۔اب یہ سمجھا جاتا ہے کہ گویا نظارت نے ان کی ضرورتوں کو پورا نہیں کیا اور اُن کے حقوق کو تلف کیا ہے مگر ایسا نہیں ہے۔نظارت بجٹ کے پاس کرنے میں مختار نہیں ہے۔پچھلے دنوں جب یہاں کے کارکنوں کو چھ چھ ماہ تک تنخواہ نہیں دی جا سکتی تھی اور تمام محکمہ جات میں تخفیف کی گئی تھی اور سب صیغہ جات میں کمی کی گئی تھی اُس وقت سے بجٹ کو میں دیکھتا ہوں۔دوسری بات میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ اس رپورٹ میں مجلس مشاورت کے کاموں اور تجاویز کو فروعی کہا گیا ہے اور بتایا گیا ہے کہ اِس وجہ سے اُن پر عمل نہیں کیا گیا مگر یہ کسی ناظر کا حق نہیں ہے اُس کا کام ہر اُس تجویز پر عمل کرنا ہے جو مجلس مشاورت میں پاس ہو۔اس کا فیصلہ کرنا کہ وہ فروعی ہے یا نہیں اُن کا کام ہے جو تجویز کرتے ہیں۔ناظر صاحب کے بیان سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کے پاس کام کرنے کا وقت تھا، فرصت تھی مگر انھوں نے اس اتھارٹی کے احکام کو اپنے اختیارات سے رڈ کر دیا جس کے فیصلے ماننے ضروری تھے۔چودھری غلام احمد صاحب وکیل کے اعتراضات کے جواب نفی میں دیئے گئے ہیں۔امید ہے آئندہ یہ نفی سبق کا باعث ہوگی۔لیکن اس سوال و جواب سے مجھے معلوم ہو گیا ہے کہ ناظر صاحب دوسروں کے جواب نہ دینے کی شکایت کرتے ہیں مگر خود ان فیصلوں کی پرواہ نہیں کرتے جو جماعت کے قائم مقام اور خلیفہ کرتا ہے۔بعض سوالات کے جواب میں کہا گیا ہے کہ پتہ نہیں مگر ان کو واقفیت بہم پہنچا کر آنا چاہئے تھا۔دیکھو انگلستان میں لیبر پارٹی آج بر سر حکومت آتی ہے اور جواب دینے شروع کر دیتی ہے یا کہتی ہے ابھی تحقیقات ہو رہی ہے مکمل ہو جانے پر جواب دیا جائے گا۔یہ نہیں کہہ دیتی کہ پتہ نہیں اور نہ یہ کہتی ہے کہ یہ سوال