خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء) — Page 92
خطابات شوری جلد اوّل وہ کرے گا وہ ماننا ہوگا۔۹۲ مشاورت ۱۹۲۴ء دوسرے مشورے دیتے وقت کوئی بات کسی کی تردید کے طور پر نہ ہو اور نہ اعتراض کے طور پر ہو کیونکہ یہ طریق محبت کو قطع کرتا ہے۔تیسرے بار بار ایک بات کو بیان نہ کریں اگر نئی بات کوئی بیان کرنی ہو تو کریں۔رائے دیتے وقت ہر ایک کو اپنی رائے کے اظہار کا موقع مل جائے گا۔ہاں ایسا ہوسکتا ہے کہ ایک دوست ایک بات کی اچھی طرح وضاحت نہ کر سکے تو دوسرا کر دے۔مگر اس سے تقریر کرنے کی اجازت دینے کی ذمہ داری بہت بڑھ گئی ہے۔چوتھے جو شخص بولنے کے لئے کھڑا ہو وہ دُعا کر کے کھڑا ہو۔پہلی قو میں طاقت ، اتحاد اور قوت میں کم نہ تھیں۔وہ ہر بات میں ہم سے زیادہ تھیں مگر اُنھوں نے کیسی کیسی ٹھوکریں کھائیں۔حضرت موسے علیہ السلام، حضرت عیسی کی قوموں کا کیا حال ہوا۔پھر دیکھو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کے زمانے کے لوگوں کا کیا حال ہے۔اُن سے عبرت حاصل کرو اور قدم قدم پر دُعا کرو۔اُن کی تباہی کی ایک ہی وجہ تھی کہ اُنہوں نے خدا کو چھوڑ دیا اور جب اُنہوں نے خدا کو چھوڑا تو خدا نے بھی اُن کو چھوڑ دیا۔اُن کی عقلیں ماری گئیں اور وہ تباہی کے گڑھے میں جا گرے۔اس وقت چونکہ ہم ہی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی لائی ہوئی شریعت کے محافظ ہیں اس لئے ہماری ٹھو کر بہت خطرناک ہوگی۔ہم آخری جماعت ہیں اس لحاظ سے کہ آئندہ نبی ہم میں سے ہی ہوں گے یا اس لحاظ سے کہ اب قیامت قریب ہے اس لئے ہماری ذمہ داری بہت بڑھی ہوئی ہے۔“ رپورٹ ناظر صاحب دعوة و تبلیغ پر تبصرہ افتتاحی تقریر کے بعد حضور نے ناظر صاحبان کو اپنی رپورٹیں پیش کرنے کے لئے ارشاد فرمایا۔چنانچہ مکرم ناظر صاحب دعوۃ و تبلیغ نے رپورٹ پیش کی۔اس پر ممبران کی طرف سے چند سوال کئے گئے جن کے مکرم ناظر صاحب نے جواب دیئے۔اس کے بعد حضور نے فرمایا: - ناظر صاحب نے جور پورٹ سُنائی ہے اس کی دو باتوں کے متعلق میں کچھ کہنا چاہتا