خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 91 of 671

خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء) — Page 91

خطابات شوری جلد اوّل ۹۱ مشاورت ۱۹۲۴ء کہ تین سو سال گذر جائیں پھر فتنے پیدا ہوں گے اس لئے ضروری ہے کہ اس بہتر زمانہ میں انتظام جماعت کے لئے ایسا قانون پاس ہو جائے کہ جو آنے والوں کے لئے داغ بیل ہو تا کہ وہ سیدھے راستہ سے اِدھر اُدھر نہ ہوسکیں۔خدا کی نصرت سے اس قوم کے فتنے پھر پیدا نہ ہوں جیسا کہ پیغامیوں نے پیدا کئے تھے۔ممکن ہے کل پھر کوئی ایسے ہی لوگ پیدا ہو جائیں یا الگ الگ خلیفے بنالیں۔تلوار جن کے ہاتھ میں ہوتی ہے وہ تو تلوار سے ایسے فتنے روک لیتے ہیں یا ان کے مقابلہ میں ایسے فتنے ظاہر ہی نہیں ہونے پاتے اور فتنہ انگیز لوگ کھڑے ہی نہیں ہوتے مگر ہمارے پاس تلوار نہیں عقیدت ہی ہے اور اس میں آزادی ہوتی ہے۔ایسے فتنوں کو ہم کس طاقت سے روک سکتے ہیں اس لئے ہمیں زیادہ احتیاط کی ضرورت ہے کہ ہم ایک ایسا انتظام کریں کہ جس میں تفرقہ کا خطرہ نہ رہے۔إِلَّا مَا شَاءَ اللهُ۔اور خدا کے منشاء کو کوئی روک نہیں سکتا۔ان امور کو مدنظر رکھ کر میں نے ایک سکیم تیار کی ہے جو بڑی لمبی ہے اس کی ابھی پوری تفصیل تو تیار نہیں ہوئی مگر میں نے ضروری سمجھا ہے کہ اس کو پیش کیا جائے تا کہ ابھی سے کام شروع کر دیا جائے۔بڑے کام آہستہ آہستہ ہی طے ہوا کرتے ہیں اس لئے مذہبی اور ضروری حصہ اب پیش کیا جائے گا۔باقی جوں جوں حالات پیدا ہوتے رہیں گے ان کے مطابق تفصیلات میں اضافہ ہوتا رہے گا۔ہمیں اس وقت یہ فیصلہ کرنا ہے کہ وہ کون سے امور ہیں جن کے ہم مذہباً پابند ہیں اور ان میں تغیر و تبدل نہیں ہوسکتا۔اس کے متعلق ایک تجویز پیش کی گئی ہے جس پر غور کیا جائے گا۔“ اس کے بعد حضور نے ایجنڈے میں سے یہ تجویز پڑھ کر سنائی۔اس کے بعد حضور نے مشورہ کے طریق کے متعلق فرمایا : - طریق مشوره ”ہماری جماعت کے لوگوں کو کھڑے ہونے اور بیٹھنے میں خاص آداب مد نظر رکھنے چاہئیں جو ہماری جماعت سے مخصوص ہیں۔اس وقت ایک شخص کو اس لئے مقرر کروں گا کہ وہ یہ دیکھ کر باری باری تقریر کرنے کی اجازت دے کہ کون پہلے کھڑا ہوا اور کون پیچھے۔اگر اُس کو دیکھنے میں غلطی لگے تو بھی جو فیصلہ